مہاراشٹر پر اتنے بڑے بحران کے وقت وزیراعظم کیوں نہیں آئے؟ کیا اپنے اگلے دورے میں مودی متاثرہ علاقوں میں جائیں گے؟: رمیش چنیّتھلا
کسانوں کی مدد سے زیادہ وزیراعلیٰ کو گڑھ چرولی کی کانوں میں دلچسپی، فڑنویس دہلی سے خالی ہاتھ ہی لوٹے
ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک متاثرین کو ایک کوڑی بھی مدد نہیں، کسانوں کی قرض معافی کا کیا ہوا؟
مقامی بلدیاتی انتخابات میں اتحاد کا فیصلہ مقامی سطح پر ہوگا: ہرش وردھن سپکال
پونے میں مغربی مہاراشٹر کے اضلاع کی جائزہ میٹنگ مکمل، بلدیاتی انتخابات اور قدرتی آفات پر گفتگو
ممبئی/پونے: مہاراشٹر اس وقت شدید قدرتی آفات کی زد میں ہے۔ 50 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ کھیت برباد ہو چکے ہیں، 100 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور سیکڑوں مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ریاست میں اتنے بھیانک حالات ہونے کے باوجود مہایوتی حکومت نے اس پر کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ مہاراشٹر بحران میں ڈوبا ہوا ہے لیکن وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کا ایک بھی وزیر یہاں کا دورہ کرنے نہیں آیا اور نہ ہی کسانوں کے آنسو پونچھنے آیا۔ اگلے مہینے وزیراعظم مہاراشٹر کے دورے پر آنے والے ہیں، کیا اس وقت وہ کسانوں کے دکھ درد بانٹیں گے؟ یہ سیدھا سوال کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور مہاراشٹر کے انچارج رمیش چنیّتھلا نے اٹھایا۔
پونے میں مغربی مہاراشٹر کے اضلاع کی جائزہ میٹنگ رمیش چنیّتھلا اور ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی رکن اور رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے، قانون ساز کونسل کے کانگریس لیڈر ستیج (بنٹی) پاٹل، اے آئی سی سی سکریٹری بی ایم سندیپ، پرتھوی راج ساٹھے، خزانچی ابھئے چھاجیڑ، سینئر نائب صدر موہن جوشی، سینئر ترجمان گوپال تیواری، یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر شیو راج مورے، شہر صدر اروند شندے اور دیگر لیڈران موجود تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رمیش چنیّتھلا نے کہا کہ کسان سنگین بحران میں ہیں لیکن حکومت کی طرف سے اب تک کوئی مدد نہیں پہنچی۔ کانگریس نے فی ہیکٹر 50 ہزار روپے دینے کا مطالبہ کیا تھا مگر حکومت نے ایک پیسہ بھی نہیں دیا۔ صرف کھوکھلے اعلانات ہوئے ہیں۔ مہایوتی نے الیکشن کے دوران کسانوں کی قرض معافی کا وعدہ کیا تھا، اب یہی سب سے درست وقت ہے قرض معافی کا لیکن حکومت اس پر خاموش ہے۔ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کل ہی دہلی جا کر وزیراعظم سے ملے تھے۔ اس وقت انہیں ریاست کی سنگین صورتحال پیش کرکے بڑا پیکیج لانا چاہیے تھا، لیکن وزیراعلیٰ کو کسانوں کی مدد سے زیادہ گڑھ چرولی کے کان مالکان کی فکر ہے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی سے بھی کان صنعت اور ممبئی کی فِن ٹیک کونسل پر بات کی لیکن کسانوں کے لیے کوئی پیکیج لائے بغیر ہی خالی ہاتھ لوٹ آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرٹھواڑہ میں حالات انتہائی سنگین ہیں، کسان پریشان ہیں اور غمزدہ ہیں، پھر بھی دھاراشیو کے ضلع کلکٹر اور تحصیلدار بالی ووڈ گانوں پر ناچ رہے ہیں۔ یہ سنگین بے حسی ہے۔ کیا انتظامیہ کے افسروں کو حالات کی کوئی سنگینی نظر نہیں آ رہی؟
رمیش چنیّتھلا نے کہا کہ مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں وی وی پی اے ٹی کا استعمال نہیں ہوگا، یہ فیصلہ الیکشن کمیشن نے لیا ہے۔ یہ فیصلہ بی جے پی کو فائدہ پہنچانے والا ہے۔ کانگریس کو اس پر اعتراض ہے اور اس کی باقاعدہ شکایت کی جائے گی۔ سپریم کورٹ کو کہنا پڑا کہ انتخابات کراؤ کیونکہ ریاستی حکومت کو الیکشن کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار ہونا چاہیے لیکن وہ مکمل طور پر بی جے پی کی طرف جھکا ہوا ہے۔ عوام کو انتخابات پر شک ہونے لگا ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے دو پریس کانفرنسیں کر کے ثبوتوں کے ساتھ ووٹ چوری کا پردہ فاش کیا لیکن الیکشن کمیشن کوئی جواب نہ دے سکا۔
بلدیاتی انتخابات میں اتحاد کے سوال پر کانگریس ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ انتخابات قریب آتے ہی اتحاد کے سوال اٹھنے لگتے ہیں، لیکن ہر پارٹی چاہتی ہے کہ اس کی تنظیم قوت مضبوط ہو۔ اتحاد سے کبھی پارٹی کی تنظیمی قوت کو نقصان بھی ہوتا ہے۔ لیکن پارٹی کی وسعت کو دیکھتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں اتحاد یا سمجھوتے کا فیصلہ مقامی سطح پر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور اس بارے میں ہمارے اتحادیوں کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔پونے میں مغربی مہاراشٹر کے اضلاع کے عہدیداروں کی میٹنگ ہوئی۔ اس دوران عہدیداروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلدیاتی انتخابات، جائزہ، منصوبہ بندی اور عمل درآمد پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ ساتھ ہی ریاست میں آئی قدرتی آفات اور کسانوں کی مدد کے موضوع پر بھی سنجیدگی سے بات چیت کی گئی۔