سماج کے آخری فردتک کو انصاف دلانے کے لئے کام کریں: ناناپٹولے

عدالت اور پولیس اسٹیشن کی لڑائی کے لئے شعبہ قانون وانسانی حقوق تیار: روی جادھو

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے قانون، انسانی حقوق اور آر ٹی آئی شعبے کے پروگرام کا انعقاد

ممبئی:ریاستی کانگریس کے قانون، انسانی حقوق وآرٹی آئی شعبے کے زیراہتمام منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے صدرناناپٹولے نے کہا ہے کہ قانون، انسانی حقوق اور آر ٹی آئی شعبے کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدامات کے ذریعے عام آدمی کو انصاف دلانے میں مدد ملے گی۔ جس طرح کھانا، کپڑا، مکان انسان کی بنیادی ضروریات ہیں، اسی طرح انصاف بھی اس کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے اور سماج کے آخری فرد تک کو بھی انصاف ملنا چاہیے جس کے لئے ہمارا قانون، انسانی حقوق اور آر ٹی آئی شعبہ مناسب مدد فراہم کرے گا۔

تلک بھون دادر میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں شعبہ قانون،انسانی حقوق وآرٹی آئی کے صدرایڈووکیٹ روی جادھو، ریٹائرڈ جج ابھے تھپسے، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور قانونی شعبہ کے انچارج وپل مہیشوری، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور معاون انچارج آشیش دووا، ریاستی جنرل سکریٹری اور چیف ترجمان اتل لونڈھے، دیپک تلوار اور اویناش پاٹل موجود تھے۔اس موقع پر نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس ایک نظریہ ہے اور اسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔ ملک کو آج ایک بڑے بحران کا سامنا ہے اور ہمیں اس بحران سے نکلنے کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہمیں آزادی بھیک میں نہیں ملی تھی بلکہ اس کے بہت جدوجہد وقربانیاں د ینی پڑی ہیں۔ آج یہ آزادی، جمہوریت اور آئین خطرے میں ہیں اور انہیں بچانے کے لیے ہم سب کو جدوجہد کرنی ہوگی۔

قانون، انسانی حقوق وآرٹی آئی شعبے کے صدر ایڈووکیٹ روی جادھو نے کہا کہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی نے شعبہ قانون، انسانی حقوق اور آر ٹی آئی کی جانب سے تین اہم اقدامات کئے ہیں۔ راجیو گاندھی نیشنل لیگل ایڈ اینڈ ہیلپ سنٹر کا افتتاح کیا گیا ہے، ریاست میں سابق وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ کے نام سے ایک قانونی لیکچر سیریز شروع کی جائے گی اور معلومات کے حق سے متعلق قانون آر ٹی آئی ہیلپ سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ آر ٹی آئی ہیلپ سینٹر کے ذریعے مفت قانونی مدد کی جائے گی جس کے لئے موبائل نمبر 8169018187 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

اس موقع پر ریٹائرڈ جج ابھے تھیپسے نے کہا کہ سماج، حکومت اور جمہوری نظام میں وکلاء کا کردار بہت اہم ہے۔ وکلاء سماج کو ایک سمت دے سکتے ہیں اس کے لئے انہیں پہل کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا عدلیہ کا کام ہے۔ گوکہ وکالت ایک پیشہ ہے، لیکن غریب وضرورت مندوں سے پیسوں کی توقع نہ کرتے ہوئے انہیں قانونی امداد بھی فراہم کرنی چاہیے۔

ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری اور چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریہ نے سماج کو تقسیم کردیا ہے اور اب اس نے ذہنی تقسیم پیدا کرنی شروع کردی ہے۔ ممبئی کے تیج پال ہال میں 76 دانشوران یکجا ہوکر، جن کی سلطنت کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، انہیں ملک چھوڑکر جانے پر مجبور کردیا۔ آج ایک بار پھر ممبئی میں قانونی ماہرین یکجا ہوئے ہیں، اب ہم پر ایک نئی تاریخ لکھنے کا وقت آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں 2014 سے غلط تاریخ پیش کی جا رہی ہے، سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان غلط معلومات کو سچائی کی روشنی سے ہمیں ختم کرنا ہے۔اس موقع پر’جمہوریت کے سپوت‘نامی اعزاز دے کر وکلاء کا استقبال کیا گیا۔