مسلمانوں کے ۵ فیصد ریزرویشن کو بحال کیا جائے : کانگریس کے کارگزار صدر و سابق وزیر نسیم خان کا وزیراعلیٰ کو مکتوب

ممبئی:ریاستی اسمبلی کے مانسون اجلاس میں مسلم ریزرویشن پرپسرے سناٹے کو دور کرتے ہوئے کانگریس کے کارگزار صدر وسابق وزیرنسیم خان نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کرتے ہوئے پسماندگی کی بنیاد پر دیئے گئے مسلمانوں کو۵فیصد ریزرویشن کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم ریزرویشن کی بحالی کے نسیم خان کے مطالبے سے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا موضوع ایک بار زیربحث آسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ سے ملاقا ت کرتے ہوئے نسیم خان نے اپنے مطالبات پرمبنی مکتوب بھی دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کانگریس اوراین سی پی کی حکومت نے 2104میں مرکزی حکومت کی تشکیل کردہ سچر کمیٹی، رنگناتھ مشراکمیٹی نیز ریاستی حکومت کی ڈاکٹر محمودالرحمان کمیٹی کی سفارشات کے تحت مسلمانوں کی مختلف برادریوں میں پائی جانے والی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے خصوصی پسماندہ طبقات کے زمرہ Aمیں تعلیمی وسرکاری ملازمتوں میں 9جولائی2014کو ۵ فیصد ریزرویشن دینے کا فصیلہ کیا تھا اور 19/جولائی 2014کو اس کا آرڈیننس بھی جاری کردیا تھا۔

یہ ریزرویشن مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ تعلیمی،سماجی و معاشی طور پر پچھڑے پن کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔حکومت کے اس آرڈیننس کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی تھی اور ہائی کورٹ نے اس آرڈیننس پر فیصلہ دیتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندہ برادریوں کو خصوصی پسماندہ طبقے کے زمرہAمیں شامل کرتے ہوئے تعلیم کے شعبے میں ریزرویشن کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا اور کانگریس واین سی پی کی حکومت نے یہ ریزرویشن 2014میں لاگو بھی کردیا تھا۔ اس کے بعد ریاست میں قائم ہونے والی بی جے پی حکومت نے قصداً اس آرڈیننس کی مدت کو کالعدم ہوجانے دیا تاکہ اس کی قانونی حیثیت ختم ہوجائے۔

نسیم خان کے مطابق گزشتہ ۹ برسوں کے دوران میں اسمبلی میں مسلسل یہ مطالبہ کرتا رہا کہ ہائی کورٹ کے حکم کی بنیاد پر مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرنے والا تعلیمی شعبے کا ریزرویشن بحال کیا جائے لیکن صرف وعدے کیے گئے۔ نسیم خان نے کہا ہے کہ مسلمانوں میں 50برادریاں ہیں، ان تمام کی پسماندگی پر غور کرتے ہوئے مسلم سماج کے طلبہ کوانصاف دیا جائے۔ نسیم خان نے اپنے مکتوب کے ساتھ مسلمانوں کی ان 50برداریوں کی فہرست میں وزیراعلیٰ کو سونپی ہے جنہیں پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیا گیا تھا۔نسیم خان کے اس مطالبے کے بعد وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے مناسب اقدام کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جب سے ای ڈی حکومت آئی ہے، صرف اعلانات کی بارش ہورہی ہے، لیکن نتیجہ صفر: نانا پٹولے

ممبئی سمیت ریاست بھر میں گڑھے ہی گڑھے، گڑھوں سے پاک سڑکوں کے وعدے کا کیا ہوا؟

ممبئی:مہاراشٹر میں شدید بارش سے کسانوں کو کافی نقصان ہوا ہے لیکن ابھی تک کوئی سروے نہیں ہوا ہے۔ ایک طرف کسانوں اور عوام کے سامنے آسمانی بحران ہے تو دوسری طرف حکومت کا بھی بحران ہے۔ جب سے شندے-فڈنویس حکومت ریاست میں اقتدار میں آئی ہے، کسانوں کو قدرتی بحران کا سامنا ہے۔ حکومت صرف اعلانات کی بارش کر رہی ہے لیکن نتیجہ صفر ہے۔ شندے-فڈنویس حکومت پر یہ زوردار حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت پچھلے ایک سال سے صرف کھوکھلے اعلانات کر رہی ہے۔ عوام سے صرف وعدے کیے جارہے ہیں لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوپارہا ہے۔ کسانوں اور عوام کا اس حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ لوگ اب یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ ریاست میں حکومت ہے یا نہیں؟ انتظامیہ میں انارکی کا ماحول ہے اور عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔ ممبئی سمیت ریاست کی تمام سڑکیں گڑھوں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان گڑھوں کی وجہ سے لوگوں کو شدید ٹریفک جام کا سامنا ہے۔ حکومت نے سڑکوں کو گڑھے سے پاک کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس وعدے کا کیا ہوا؟ پٹولے نے کہا کہ ریاست کو خوشحال بنانے کے وعدے پر قائم ہوئی حکومت نے خوشحالی کی شاہراہ کو موت کی شاہراہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اسمبلی میں حکومت سے سوالات پوچھے جاتے ہیں تو وزراء واضح جواب نہیں دیتے۔ وہ بس یہ کہتے ہیں کہ ہم معاملے کو دیکھ رہے ہیں، جلد ہی اقدامات کیے جائیں گے۔لیکن نہ ہی وہ معاملے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی اقدام کیا جاتا ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر ٹول سے متعلق رہنما خطوط ہیں۔ سڑک پر گڑھے ہونے پر ٹول وصول نہیں کیا جاتا لیکن نیشنل ہائی وے پر گڑھے ہونے کے باوجود ٹول وصول کیا جا رہا ہے۔ ریاست میں ٹول مافیا راج کرتے ہیں اور حکومت ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاٹول مافیا حکومت کے داماد ہیں؟

Letter to CM & DCM for Muslim Reservation.pdf

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading