MPCC Urdu News 24 Jan 22

0 2

گاؤں کے غنڈے سے تعلق جوڑکر بی جے پی کے لوگ وزیراعظم کو بدنام کررہے ہیں: ناناپٹولے

’بھارت ماتا کی جئے ‘کا نعرہ لگاکر ملک فروخت کردینے والوں کے خلاف احتجاج کیجئے

ممبئی:اس وضاحت کے بعدبھی کہ ہم نے وزیر اعظم مودی کے بارے میں نہیں بلکہ گاؤں کے ایک غنڈے کے بارے میں بات کی تھی، ریاست کے بی جے پی لیڈر ایک غنڈے کو وزیر اعظم نریندر مودی سے جوڑ کر انہیں بدنام کر رہے ہیں۔ ریاست میں بی جے پی لیڈر اس قدر مایوس اور فرسٹریشن کے شکار ہیں کہ وہ ایک غنڈے اور وزیر اعظم میں فرق ہی نہیں کرپارہے ہیں۔ایسے لوگوں کو اپنا ذہنی علاج کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے بی جے پی کے لیڈروں پر کی ہیں۔

تلک بھون میں پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے ریاستی صدر نے کہا کہ بی جے پی جس بات کو وزیراعظم مودی سے جوڑرہی ہے وہ دراصل میں نے ایک غنڈے کے بارے میں کہی تھیں۔ اس غنڈے نے میڈیا کے سامنے آ کر سب کچھ واضح کردیا جس کے بارے میں نے بات کی تھی۔ میں نے وزیر اعظم مودی کے خلاف کسی توہین آمیز الفاظ کا استعمال نہیں کیا ہے اس لیے میں نے ان سے اسے روکنے کے لیے کہا۔ لیکن بی جے پی میرے خلاف مظاہرے کر رہی ہے اورمیرے پتلے جلا رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی وزیر اعظم نریندر مودی کو غنڈوں سے جوڑ کر انہیں بدنام کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔اگر بی جے پی میرے پتلے جلانا چاہتی ہے تو وہ خوشی سے جلائے لیکن کم ازکم اسے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس کے اس احتجاج سے وزیراعظم کی ہی توہین ہورہی ہے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ بی جے پی کو اگر میرے پتلے جلانا ہے تو شوق سے جلائے لیکن بھارت ماتاکی جئے کا نعرہ لگاکر جو لوگ ملک کو فروخت کررہے ہیں، وہ ان کے بھی پتلے جلائیں۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پٹاؤ کہنے والے کے بھی پتلے جلائیں۔ کسانوں کو گاڑی کے نیچے کچل کر مارنے والے کے بھی پتلے جلائیں۔ آج ملک کے سامنے کئی سوالات ہیں۔ کسانوں کی خودکشیوں کے ساتھ ہی بے روزگاروں کی خودکشی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔جن کی وجہ سے آج ملک تباہ ہورہا ہے، ان کے بھی پتلے جلائیں۔

کانگریس وزیر اعظم کے عہدے کی عزت، وقار اورمرتبے سے واقف ہے۔اس عہدے کا لحاظ رکھنا کانگریس کی روایت رہی ہے لیکن جب ڈاکٹر منموہن سنگھ ملک کے وزیراعظم تھے تو بی جے پی کے لیڈران کون سی زبان کا استعمال کررہے تھے۔ بی جے پی جو اپنے آپ کوروایت کی پاسدار ڈ پارٹی کہتی ہے، اس وقت اس کی روایت کہاں کھوگئی تھی؟ اس کے علاوہ مرکزی وزیر نارائن رانے کا بیان اور میرا بیان دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔بی جے پی کو اس کا موازنہ نہ کرے۔نامہ نگاروں کے ایک سوال کے جواب میں پٹولے نے کہا کہ میرا ذہنی توازن خراب ہونے کی بات کرنے والے اپوزیشن لیڈر دیویندر فڈنویس کا ہی ذہنی توازن بگڑا ہوانظر آرہا ہے۔ ودربھ میں بلدیاتی انتخابات میں کانگریس نے بی جے پی کو شکست دی ہے۔ ہم نے بی جے پی کو شکست دی ہے، اس لیے ان کے پیروں کے نیچے کی زمین کھسک گئی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ اس صدمے سے باہر نہیں آسکے ہیں۔اسی لئے انہیں گاؤں کے ایک غنڈے اور وزیراعظم کے درمیان کا فرق نہیں سمجھ میں آرہا ہے۔ انہیں اپنے دماغ کا علاج کرانے کی اشد ضرورت ہے۔