ریاست میں ’سیتوسویدھا‘ مرکز دوبارہ شروع کیا جائے گا

ایم ایل اے دھیرج دیشمکھ کا اسمبلی اجلاس میں سوال،حکومت کا جلد ہی ٹینڈرکا عمل شروع کئے جانے کی یقین دہانی

ممبئی: ریاست کے تحصیل دفاتر میں واقع ’سیتوسویدھا کیندر‘کے ٹینڈر کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو دوسرے متبادل کا سہارا لینا پڑتا ہے اور انہیں زبردست پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔عوام کی ان پریشانیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ایم ایل اے دھیرج ولاس راؤ دیشمکھ نے بجٹ سیشن میں مطالبہ کیا کہ ریاست میں ’سیتو سوویدھا کیندر‘ کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

ایم ایل اے دھیرج دیشمکھ کے اس مطالبے پر جنرل ایڈمنسٹریشن کے وزیر دتاتریہ بھرنے نے اس کو دوبارہ شروع کئے جانے کا اعلان کیا اور یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ بہت جلد اس کے ٹینڈر کا عمل شروع کردیا جائے گا۔بجٹ اجلاس میں دھیرج دیشمکھ نے لاتور سمیت ریاست کے مختلف حصوں میں سیتوسویدھا مراکز کے بند ہونے کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ اس مرکز کے ذریعے ایک ہی چھت کے نیچے تمام سہولیات بند ہونے کی وجہ سے دیہی علاقوں کے شہریوں کو سرٹیفکیٹ کے لیے دوسری جگہوں پر جانا پڑتا ہے۔زیادہ پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں اور انہیں جو دشواریاں ہوتی ہیں وہ الگ ہیں۔ لہذا فوری طور پر ’سیتو سوویدھا کیندر‘ شروع کیا جائے۔

دھیرج دیشمکھ نے کہا کہ تحصیل دفاتر دیہی علاقوں کے شہریوں کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ وہاں پہنچنے کے بعد شہریوں کو مختلف سرٹیفکیٹس کے سلسلے میں سیتوسویدھا کیندر کے ذریعے جو خدمات مل رہی تھیں، وہ ٹینڈر کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے 31 دسمبر سے بند ہیں۔ دھیرج دیشمکھ نے کہا کہ اس کی وجہ سے ہونے والی تکلیف پر ریاستی حکومت کو غور کرنا چاہئے اور ایک نیا ٹینڈر جاری کیا جانا چاہئے۔ ان کی طرف سے اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے، وزیر مملکت برائے جنرل ایڈمنسٹریشن دتاتریہ بھرنے نے یقین دلایا کہ’سیتو سوویدھا کیندر‘ کو دوبارہ کھولنے کے لیے جلد از جلد ٹینڈر کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے دھیرج دیشمکھ نے کہا کہ ریاست میں ’سیتو سویدھا کے مراکز کے بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑارہا ہے، اس لیے میں نے مطالبہ کیا کہ ان مراکز کو دوبارہ کھولا جائے اور ریاستی حکومت نے میرے مطالبے کو منظور کرلیا ہے جو عام آدمی کے لیے راحت کا باعث ہے۔