MPCC Urdu News 22 October 22

چناؤ سے ٹھیک پہلے مودی سرکار کا ’روزگار میلہ‘ صرف ایک ایووینٹ:اتل لونڈھے

ملک میں بیروزگاری کے سیلاب کے آگے 75ہزارملازمتیں ’اونٹ کے منھ میں زیرہ‘

فڈنویس کے ذریعے اعلان کردہ 72ہزار کی میگابھرتی بھی صرف ایک وعدہ بن کر رہ گیا

ممبئی: مرکز کی مودی حکومت 75 ہزار لوگوں کو نوکریاں دینے کا دعویٰ کر کے اپنے اس ایووینٹ کا جم کر ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے۔ لیکن اس کے پیچھے کی سچائی کچھ اور ہے۔ہماچل پردیش، گجرات اوردیگر ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر مودی سرکار نے اس میگا ایووینٹ کا انعقاد کیا ہے تاکہ لوگوں کے درمیان بیروزگاری کے تعلق سے بڑھ رہی ناراضگی کو کچھ کم کیا جاسکے۔ یہ سخت تنقید آج یہاں ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ جن لوگوں کو تقرری نامہ دیا گیا ہے ان میں سے کئی عہدوں کے لیے امتحانات ڈیڑھ سے دو سال قبل ہوئی تھیں لیکن تقرریوں کو ہولڈ پر رکھا گیا تھا۔75ہزار ملازمتوں کا یہ دھنڈورا صرف الیکشن کے لیے پیٹا جارہا ہے لیکن ملک کے لوگ کافی سمجھدار ہیں اور وہ اس طرح کی چالوں کو بخوبی سمجھتی ہے۔اتل لونڈھے نے کہا کہ میگا ایونٹ کے انعقاد میں نریندر مودی اور دیویندر فڈنویس کا ہاتھ کوئی نہیں پکڑ سکتا۔ ا سٹاف سلیکشن اور ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ سمیت مختلف بورڈز کے امتحانات کو ڈیڑھ سال کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن ان امتحانات کے نتائج کو روک دیا گیا تھا تاکہ وزیراعظم دیوالی کے موقع پر اس تقریب کا انعقاد کر سکیں۔ لونڈھے نے کہا کہ ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گجرات میں جلد ہی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس الیکشن کو ذہن میں رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے تقرری خطوط جاری کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ نوجوانوں نے لیبر پورٹل پر نوکریوں اور روزگار کے لیے رجسٹریشن کرایا ہے، جن میں سے صرف 7 لاکھ کو نوکریاں ملی ہیں۔ CMIE کے مطابق 45 کروڑ لوگوں نے نوکریوں کی امید چھوڑ دی ہے۔ جبکہ مرکزی حکومت کے پاس ملازمین کے 25 لاکھ عہدے خالی ہیں۔ بیر روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کو دیکھتے ہوئے 75 ہزار نوکریاں ’اونٹ کے منہ میں زیرہ‘ کی طرح ہیں۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے دور میں دیویندر فڈنویس نے 72 ہزارعہدوں پر میگا بھرتی کا اعلان کیا تھا، لیکن حقیقت میں وہ 72 لوگوں کو بھی ملازمت نہیں دے سکے۔ فڈنویس نے ملازمین کی بھرتی نہیں کی بلکہ دوسری پارٹیوں کے ایم ایل اے اور ایم پی کو توڑنے اور بی جے پی میں شامل کرنے کا کام ضرور کیا۔ لونڈھے نے کہا کہ پی ایم مودی اور فڈنویس کے قول و فعل میں زبردست نضاد ہے جس کو ملک کی عوام اچھی طرح سمجھتی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading