MPCC Urdu News 22 march 24

’ون نیشن، ون الیکشن اینڈ نو اپوزیشن‘ یہی ہے مودی حکومت کا طریقۂ کار: نانا پٹولے

مودی حکومت نے صرف کانگریس کے ہی اکاؤنٹ نہیں بلکہ اس ملک کی جمہوریت بھی منجمد کردیا ہے

2024 کی لڑائی آئین اور جمہوریت بچانے کی لڑائی ہے

ممبئی: ایسی صورت میں جب لوک سبھا انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، اپوزیشن سے براہ راست مقابلہ کرنے کی ہمت بی جے پی میں نہیں ہے اور اسی لیے وہ رونے دھونے پر اتر آئی ہے۔ شکست کے خوف سے نریندر مودی مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے اپوزیشن پارٹیوں کو شکست دینے کی کوشش شروع کر دی ہیں۔ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو گرفتار کیا، کل ہی دہلی کے وزیر اعلیٰ کو ای ڈی نے گرفتار کیا۔ کانگریس پارٹی الیکشن نہ لڑ سکے اس کے لیے کانگریس پارٹی کے اکاؤنٹ کو منجمد کر دیا گیا ہے۔ مودی حکومت نے صرف کانگریس کے اکاؤنٹ نہیں بلکہ ملک کی جمہوریت کو ہی منجمد کر دیا ہے۔ مودی حکومت کا طریقۂ کار ون نیشن، ون الیکشن اور نو اپوزیشن کا ہے۔ یہ سخت حملہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

اس تناظر میں بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت چین اور روس کے ماڈل کے مطابق کام کرتی ہے۔ ان ممالک میں صرف ایک پارٹی ہے اور اس کے مخالف پارٹی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اسی طرح کانگریس بھی یہاں کر رہی ہے۔ بی جے پی کانگریس پارٹی کے بینک اکاؤنٹ کو منجمد کرکے کانگریس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی سمیت کوئی بھی پارٹی انکم ٹیکس ادا نہیں کرتی ہے۔ ایسے میں محکمہ انکم ٹیکس کا کیا صرف کانگریس پارٹی کے ہی بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنا چاہئے؟ محکمہ انکم ٹکیس نے جس طرح کانگریس کے خلاف کارروائی کی، اس طرح کی کارروائی بی جے پی کے خلاف کرنے کی اس نے ہمت کیوں نہیں دکھائی؟ یہ 2017-18 کانگریس پارٹی کو ملے 210 کروڑ کے عطیات کا مسئلہ ہے۔ کانگریس ایم پیز نے 14 لاکھ 49 ہزار روپے نقد جمع کرائے تھے، یہ وجہ بتاتے ہوئے محکمہ انکم ٹیکس نے 106 فیصد جرمانہ لگا کر کانگریس کے اکاؤنٹ سے زبردستی 115 کروڑ روپے نکال لیے ہیں۔

نانا پٹولے نے کہا کہ اس معاملے میں سب سے اہم بات ٹائمنگ کی ہے۔ لوک سبھا الیکشن کے عین سامنے محکمہ انکم ٹکیس کو آگے کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرتے ہوئے کانگریس کو مالی بحران میں مبتلا کیا گیا ہے۔ پارٹی کے پاس انتخابی مہم کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ 1993-94 میں جب سیتارام کیسری کانگریس کے خزانچی تھے اس وقت ملے چندے کے لیے اب 31 سال بعد محکمہ انکم ٹیکس نے نوٹس بھیجا ہے۔ جبکہ مودی کو معلوم ہے کہ سیاسی پارٹیاں انکم ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی نے کبھی انکم ٹیکس بھرا ہے؟ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت کتنے نچلے سطح پر سیاست کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی اس معاملے میں عدالت جائے گی مگر اس وقت تک لوک سبھا انتخابات ختم ہوجا ئیں گے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ایک جانب اپوزیشن پارٹیوں کو مالی بحران میں مبتلا کرنا اور دوسری طرف بی جے پی صرف الیکٹورل بانڈ سے کروڑوں روپے اکٹھا کر رہی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا کرپشن ریکیٹ نریندر مودی اس الیکٹورل بانڈ کے ذریعے چلایا ہے۔ ای ڈی، سی بی آئی اور محکمہ انکم ٹیکس کے چھاپوں کے ذریعے ان کمپنیوں سے زبردستی پیسے لیے گئے۔ جمہوری نظام میں آزادانہ اور منصفانہ ماحول میں انتخابات ہونے چاہئیں لیکن مودی حکومت اپوزیشن کو ختم کر رہی ہے۔ بی جے پی کو اپنی عبرتناک شکست صاف نظر آرہی ہے، یہی وجہ ہے کہ مودی-شاہ ٹولی کے پیروں کے نیچے سے زمین سرک گئی ہے۔ مودی سرکار کے باپ کا گھڑا اب بھر گیا ہے۔ آمریت کا خاتمہ اب قریب آگیا ہے اور عوام اس آمر حکومت کا خاتمہ کرے گی۔