آر ایس ایس اور بی جے پی قربانی و بہادری کی اہمیت کو بھلا کیا سمجھیں گے؟

نہرووگاندھی کی وراثت کو ختم کرنے کی بی جے پی کی ایک اور کوشش

ممبئی:مرکز کی نریندر مودی حکومت نے ’امر جوان جیوتی‘ کو بجھا کر ملک کے لیے عظیم قربانی دینے والے بہادر سپاہیوں کی گزشتہ 50 سال کی بہادری کی علامت کو مٹانے کا گناہ کیا ہے۔ مودی حکومت نے دہلی میں ’امر جوان جیوتی‘ کو بجھانے کا فیصلہ کرکے ملک کے لیے اپنی جانیں نچھاور کرنے والے فوجیوں کی توہین کی ہے۔یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مرکزی حکومت کے ذریعے ’امرجوان جیوتی‘ کو ختم کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس ملک کے لیے قربانیاں دینے والے بہادر بیٹوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ امر جوان جیوتی جیسی یادگاریں لاکھوں لوگوں کو ہزاروں بہادر جوانوں کی بے مثال بہادری کی علامت کے طور پر بنائی گئی تھی۔’امر جوان جیوتی‘ کو بجھانے کی جو وجہ بتائی گئی ہے وہ نہایت بودی اور بچگانہ ہے۔ پٹولے نے کہا کہ آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی جنہوں نے ملک کو ایک مضبوط قیادت دی، سال 1971 میں پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھااوردنیا کے نقشے پر ایک نیاملک بنگلہ دیش بنایا تھا۔ مرکزی حکومت ’امر جوان جیوتی‘ کو بجھا کر ملک کے تئیں ان کی شراکت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو اس جنگ میں شہید ہونے والے بہادر فوجیوں کی بہادری کی تاریخ بیان کرتی ہے۔ لیکن ملک کے لیے جان دینے والے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جا سکتیں۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دن کے پروگرام میں انپی جانیں قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا، لیکن انہوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کا نام تک نہیں لیا۔ آزادی کی امرت سالگرہ مناتے ہوئے مرکز کی بی جے پی حکومت نے ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا تذکرہ کرنے سے بھی گریز کیا جنہوں نے آزادی اور آزادی کے بعد ملک کی ترقی میں انمول تعاون پیش کیا۔ ملک کی آزادی کی تحریک اور ملک کی تعمیر میں آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ لیکن بی جے پی حکومت نہرووگاندھی کے تعاون سے انکار کرنے کی مکروہ کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اگر بی جے پی حکومت آج ’امر جوان جیوتی‘ کو بجھا دیتی ہے تو بھی یہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

کانگریس مہاتما گاندھی کے قاتل کی قصیدہ خوانی کبھی برداشت نہیں کرے گی: ناناپٹولے

بہتر ہوتا اگر امول کولہے ناتھورام گوڈسے کا کردار اداکرنے سے گریز کرتے

ممبئی:سماج کا ایک طبقہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قتل کی حمایت کرنے اور ان کے قاتل ناتھورام گوڈسے کی تعریف کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن کانگریس ایسی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرے گی۔ یہ باتیں ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

انہوں نے این سی پی کے رکن پارلیمنٹ اور اداکار ڈاکٹر امول کولہے کے مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کا کردار ادا کرنے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر کولہے ناتھورام کا کردار ادا کرنے سے گریز کرتے۔ پٹولے نے کہا کہ امول کولہے ایک فنکار ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ ایک پارٹی کے رکن پارلیمنٹ بھی ہیں۔ اس لیے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ ذمہ داری سے کام کریں،مگر یہ بدقسمتی ہے کہ ایک فنکار کے طور پر وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ کولہے نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والے ناتھورام کا کردار ادا کرکے اسے مثبت پیراے میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ ناتھورام گوڈسے کو ہیرو بنانے کی کوشش کرکے غلط روایت کو فروغ دینے کا کام کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی کچھ اداکاروں کے ذریعے ناتھورام گوڈسے کا کردارادا کرنے پر لوگوں نے سخت ناراضگی ظاہر کی تھی۔ ڈاکٹر کولہے نے ناتھورام کا کردار ادا کرنے کی جو وضاحت دی ہے وہ متضاد ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ ناتھورام کے کردار پر بھارتیہ جنتا پارٹی کا ردعمل نیا نہیں ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بی جے پی کے لوگ بابائے قوم مہاتما گاندھی اور ناتھورام گوڈسے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناتھورام کے کردار میں امول کولہے نے ایک طرح سے گاندھی کے قتل کی حمایت کی ہے۔وہ کتنی ہی چالاکی سے کچھ بھی کہیں، اب اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ پٹولے نے کہا کہ ملک میں ایک خاص نظریہ کے لوگ ناتھورام کو زندہ رکھ کر مہاتما گاندھی کی مسلسل توہین کر رہے ہیں، لیکن 75 سال گزرنے کے بعد بھی مہاتما گاندھی کے خیال کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہمارے اپنے ملک میں کچھ لوگ مہاتما گاندھی کے خیالات کو مٹانے کا کام کر رہے ہیں لیکن لوگ گاندھی کے خیالات اور ملک کے لئے ان کی قربانیوں کونہ بھولے ہیں اور نہ ہی بھولیں گے۔