ایم آئی ایم کوعملی طور پر یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ بی جے پی مخالف ہے: اتل لونڈھے
ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کی کوئی تجویزنہیں آئی ہے اور مہاوکاس اگھاڑی میں بھی اس پر کوئی بات چیت نہیں ہے
ممبئی:ایم آئی ایم کے ریاستی صدرامتیازجلیل نے میڈیا میں یہ بیان دے کر ریاستی سیاست میں ہلچل مچادی ہے کہ بی جے پی کو روکنے کے لئے ان کی پارٹی مہاوکاس اگھاڑی سے اتحاد کے لئے تیار ہے۔ لیکن امتیاز جلیل کے اس بیان کے بعد مہاوکاس اگھاڑی میں شامل پارٹیوں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں ایم آئی ایم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسے پہلے عملی طور پر یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ واقعتا بی جے پی مخالف ہے۔
ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے اس ضمن میں باقاعدہ ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوکہ ایم آئی ایم بی جے پی کو روکنے کے لئے مہاوکاس اگھاڑی میں شامل ہونے کے لئے اپنی تیاری ظاہر کی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں ایم آئی ایم کے طریقہئ کار سے یہ کہیں نظر نہیں آیا۔ اس لئے امتیاز جلیل کو پہلے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ واقعتا بی جے پی مخالف ہیں اس کے بعد اتحاد واگھاڑی کے بارے میں بات کرنی چاہئے۔ امتیازجلیل کے بیان پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے لونڈھے نے کہا ہے کہ اتحاد یااگھاڑی مشترکہ نظریات یا مشترکہ مقاصد کی حامل پارٹیوں کے درمیان ہوتی ہے۔ مخالف یا مختلف نظریاتی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد نہیں ہوسکتا۔ مہاراشٹر میں بی جے پی کو روکنے کے لیے کانگریس پارٹی نے این سی پی اور شیو سینا کے ساتھ مل کر مہاوکاس اگھاڑی تشکیل دی ہے۔عوامی مفاد کے لئے اور آئین کے مطابق کامن مینیمم پروگرام تیار کیا گیا جس کے مطابق مہاوکاس اگھاڑی حکومت وجود میں آئی اور کام کررہی ہے۔
اتل لونڈھے نے کہا ہے کہ ایک جانب بی جے پی کو روکنے کے لیے مہاوکاس اگھاڑی وجود میں آئی تو دوسری جانب ملک بھرکی مختلف سیاسی پارٹیوں نے خود کو بی جے پی مخالف قراردے کر لوگوں کو گمراہ کیا اورسیکولر ووٹوں کو تقسیم کرتے ہوئے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کاکرداراداکرتی رہیں۔ ایم آئی ایم نے بھی پارلیامنٹ ومختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو فائدہ پہونچانے کا کردار نبھایا اس لئے نہ صرف علاقائی پارٹیاں بلکہ ملک کی عوام بھی اسے بی جے پی کی بی ٹیم قراردیتی ہے۔لونڈھے نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی آئین کے نظریات کے مطابق چلتی ہے اور ذات پات اور مذہب سے بالاتر ہو کر سب کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے جانی جاتی ہے۔ اس کے برعکس بی جے پی صرف ہندوتوا کی سیاست کے ذریعے ذات پات اور مختلف مذاہب کے درمیان دراڑ پیدا کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرتی ہے اورلوگوں کو تقسیم کررتی ہے۔ ایم آئی ایم نے بھی مسلسل بی جے پی کے مفاد کے مطابق کام کرتے ہوئے بی جے پی کوفائدہ پہنچانے کی سیاست کی ہے۔ کانگریس پارٹی ذات پات، مذہب، صوبے یا زبان کی بنیاد پر تقسیم کی سیاست نہیں کرتی ہے۔آئین وجمہوریت کو ختم کرکے آمرانہ طریقے سے کام کرنے والی بی جے پی کو روکنے کے لئے کانگریس پارٹی سیکولر نظریات کی حامل پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔ کانگریس کا یہ موقف ہے کہ ملک کی تمام سیکولر وہم خیال پارٹیوں کو ایک ساتھ آکر بی جے پی کو روکنا چاہئے۔لونڈھے نے کہا کہ ایم آئی ایم نے کانگریس پارٹی کواتحاد کے لئے کوئی آفیشیل تجویز نہیں دی ہے۔ اس ضمن میں کوئی بات چیت بھی نہیں ہوئی ہے اور مہاوکاس اگھاڑی میں بھی اس بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہے۔ اگر ایم آئی ایم کی جانب سے اتحاد کے لئے کوئی آفیشیل تجویز آتی ہے تو کانگریس پارٹی کے سرکردہ لیڈران اس پر غور کریں گے لیکن اس سے قبل ایم آئی ایم کو عملی طو رپر یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ واقعی بی جے پی مخالف ہے۔