MPCC Urdu News 19 June 23

88 ہزار کروڑ کے نوٹ گھوٹالے کی جے پی سی سے جانچ کرائی جائے: نانا پٹولے

500 کے 176 کروڑ نئے نوٹ کس کی جیب میں گئے؟

شری رام اور ہنومان کی توہین کرنے پر فلم’آدی پورش‘ پر پابندی لگائی جائے

ممبئی:مرکز کی مودی حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ اس پر بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں ہے، لیکن یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ مودی حکومت کرپشن میں بری طرح ملوث ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے یہ بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب مودی حکومت کا ایک اور گھوٹالہ سامنے آیا ہے۔ سال 2016-17 میں 500 روپے کے 8810.65 کروڑ نئے نوٹ چھاپے گئے لیکن صرف 7250 کروڑ نوٹ ہی آر بی آئی تک پہنچے۔ یعنی 88ہزار کروڑ روپے کے 176 کروڑ نوٹ غائب ہو گئے۔ آخر یہ نوٹ کس کی جیب میں گئے؟ نانا پٹولے نے پورے گھوٹالے کی جانچ کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے یہ بات معلومات کے حق کے تحت موصول ہونے والی اطلاعات پر کہی ہے۔

پیر کو تلک بھون میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے مزید کہا کہ ناسک، دیواس اور بنگلورو کے سرکاری پرنٹنگ پریسوں میں نوٹ چھاپے جاتے ہیں۔ ناسک اور دیواس میں سرکاری پرنٹنگ پریس مرکزی وزارت خزانہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ عام طورپر سرکاری پرنٹنگ پریس سے نوٹ چھپنے کے بعد براہ راست ریزرو بینک میں جاتا ہے اور پھر اسے بینکوں کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ اس عمل میں آخرکہاں گڑبڑی ہوئی کہ 500 روپے کے تقریباً 88 ہزار کروڑ روپے غائب ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے اور مودی حکومت کو اس سوال کا جواب ملک کے عوام کو دینا چاہئے۔

پٹولے نے کہا کہ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ نوٹ بندی ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے۔ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد ریزرو بینک میں 500 اور 1000 روپے کے پرانے نوٹ جمع کرائے گئے۔ 1660 کروڑ کے نوٹ چلن میں تھے لیکن جب یہ پرانے نوٹ ریزرو بینک میں جمع کیے گئے تو 2 لاکھ کروڑ کے نوٹ زیادہ تھے۔ سوال یہ ہے کہ نوٹ بندی کے بعد یہ نئے نوٹ کہاں سے آئے؟ ان میں سے کتنے نئے نوٹ چھاپے گئے؟ ان میں سے کتنے نوٹ ریزرو بینک تک پہنچے؟ اس کے ساتھ ہی پرانے نوٹوں کے گھوٹالے کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔

فلم ’آدی پورش‘ پر پابندی لگائی جائے

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ فلم ’آدی پورش‘ میں بھگوان شری رام اور ہنومان کی توہین کی گئی ہے۔ بی جے پی ڈینگیں مارتی ہے کہ وہ ہندوتوا کی حکومت چلا رہی ہے، لیکن شری رام اور ہنومان کی توہین کرنے والی اس فلم کے بارے میں کچھ نہیں کہتی۔ فلم میں ہنومان کے منہ سے ٹپوری زبان جیسے مکالمے ادا کرائے گئے ہیں۔ فلم کے نام پر کارٹون بنایا گیا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ کیا اس فلم کو سرٹیفکیٹ دیتے وقت سنسر بورڈ سو رہا تھا؟ جن لوگوں نے اس فلم کو پروڈیوس کیا ہے انہیں شری رام اور ہنومان کی توہین کرنے پر ملک کے عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ ریاستی صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ شری رام اور ہنومان کی توہین کرنے والی فلم ’ادی پورش‘ پر فوری پابندی عائد کی جائے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading