بی جے پی مسلمانوں کی واقعی ہمدرد ہے تو وزیراعظم یا قومی صدر کسی مسلمان کو بنائے: ہرش وردھن سپکال

اگر فڈنویس، اجیت پوار اور شندے کو واقعی نریندر مودی کا بھروسہ حاصل ہے تو ریاست کے لیے خصوصی پیکیج لا کر مہاراشٹر کی بگڑتی معیشت کو سہارا دیں

اکولہ: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی بی جے پی کو مسلمانوں سے ہمدردی ہے تو پھر کسی مسلم شخص کو وزیراعظم یا پارٹی کا قومی صدر بنائے۔ وہ اکولہ میں کانگریس کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے آج تک 89 صدور گزر چکے ہیں، جن میں تمام مذاہب، ذاتوں، مرد، خواتین، قبائلی، دلت، ہندو، مسلم اور عیسائی سبھی شامل رہے۔ کانگریس نے ہمیشہ ترقیاتی کاموں کا فائدہ ہر طبقے تک پہنچایا، مگر بی جے پی آج کل مسلمانوں کے تئیں مصنوعی ہمدردی دکھا رہی ہے۔ مسلم خواتین کی فلاح کے نام پر تین طلاق کا قانون لایا گیا، غریب مسلمانوں کے لیے وقف بورڈ کے قوانین کی بات کی گئی۔ اگر بی جے پی واقعی سنجیدہ ہے تو اپنی قیادت مسلمانوں کے سپرد کرے۔

سپکال نے کہا کہ بی جے پی کے موجودہ صدر جے پی نڈا کی مدت پوری ہو چکی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی بھی 75 برس کے ہو چکے ہیں، اب انہیں ریٹائرمنٹ لینی چاہیے۔ ایسے میں اب آر ایس ایس کی جانب سے کسی نئے چہرے کا نام آنے کے بجائے، خود بی جے پی کو چاہیے کہ وہ ایک مسلمان شخصیت کو پارٹی کی سربراہی دے یا وزیراعظم کے عہدے پر فائز کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو بھی اب آرام دیا جانا چاہیے اور ان کی جگہ کسی دلت یا قبائلی کو تنظیم کی قیادت سونپی جائے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے ریاست میں بلدیاتی انتخابات نہ ہونے پر بھی بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف تین افراد کی حکومت ریاست کو چلا رہی ہے اور سب اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھ کر عوامی نظام کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ شندے-فڈنویس-اجیت پوار حکومت نے ریاستی خزانے کو لٹیرے مافیا کے حوالے کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کسانوں کو نہ تو مناسب قیمت دی اور نہ ہی بارش، ژالہ باری اور قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کا کوئی ازالہ کیا۔ ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہیں ہو رہی، ایس ٹی ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملتیں، یہاں تک کہ ’لاڈکی بہین‘ جیسی اسکیمیں بھی رقم کی محتاج ہو چکی ہیں۔

سپکال نے ریاست میں بڑھتے منشیات کے کاروبار پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے کانڈلا بندرگاہ سے ریاست میں منشیات کی اسمگلنگ ہو رہی ہے مگر حکومت اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ریاست میں مکمل وقت کے لیے وزیر داخلہ نہ ہونے کی وجہ سے قانون و نظم کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔اس موقع پر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری کنال چودھری، رکن اسمبلی ساجد خان پٹھان، شہر ضلع کانگریس صدر ڈاکٹر پرشانت وانکھڑے، دیہی ضلع صدر اشوک امانکر، سابق وزیر اظہر حسین، پردیش جنرل سیکریٹری شام امالکر، ہدایت پٹیل، مدن بھرگڈ، مہیش گنگنے، ڈاکٹر ذیشان حسین، ڈاکٹر ابھی پٹیل سمیت بڑی تعداد میں کانگریس کے عہدیدار اور کارکنان موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading