یومِ آزادی پر کون کیا کھائے گا، کیا یہ حکومت طے کرے گی؟ بی جے پی اور ملک کی آزادی کا بھلا کیا تعلق؟: ہرش وردھن سپکال

’کبوتر جہاد‘ بی جے پی حکومت کا ہی پاپ، لوڈھا اور اڈانی ٹاور میں خصوصی کبوتر پلازا تعمیر کریں

ممبئی: یومِ ازادی ایک قومی تہوار ہے، اس کا بھارتیہ جنتا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب پورا ملک آزادی کے لیے لڑ رہا تھا، تب بی جے پی کے آبا و اجداد انگریزوں کے ساتھ تھے، کچھ لوگ انگریزوں کی پنشن کھاتے ہوئے ان کی مدد کر رہے تھے۔ بی جے پی اپنے آبا و اجداد پر لگے ان سیاہ دھبوں کو چھپانے کے لیے ہی یوم آزادی پر کون کیا کھائے، اس کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ یہ سخت حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔

تِلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ون نیشن ون لیڈر ‘ کا نظریہ لا کر ایک ہی لیڈر، ایک ہی لباس، ایک ہی زبان اور ایک ہی کھان پان کے ذریعے ملک کی مختلف النوع ثقافت کو ختم کرنا اور آمریت لانا بی جے پی کا مقصد ہے۔ ہندو مسلم تنازع تو روزانہ جاری ہے، پہلے مراٹھا-او بی سی تنازع کھڑا کیا گیا، اس کے بعد مراٹھی-ہندی تنازع اور اب 15 اگست کو گوشت نہ کھانے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ یہ عوام پر ہر طرح کا حکومتی کنٹرول لانے کی کوشش ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ کبوتر بھی جینے کا حق رکھتے ہیں، لیکن انسانوں کو بھی جینے کا حق ہے۔ کبوتروں کے پروں اور بیٹ سے پھیپھڑوں کی سنگین بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، جن سے کچھ لوگ جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔ اس لیے شہریوں کی صحت کا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے، لیکن بی جے پی حکومت نے جان بوجھ کر ’کبوتر جہاد‘ شروع کر دیا ہے۔ حکومت نے اڈانی کو آدھی ممبئی سونپ دی ہے اور وزیر منگل پربھات لوڈھا کے پاس بھی ممبئی میں کافی زمین ہے، اس زمین پر لوڈھا اور اڈانی خصوصی کبوتر پلازا تعمیر کریں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت میں گینگ وار جاری ہے، بھاری بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے۔ اس حکومت نے ریاست کو دیوالیہ پن کے قریب پہنچا دیا ہے اور ووٹ چوری کی حقیقت سے عوام کا دھیان بھٹکانے کے لیے ہی بی جے پی حکومت نے کبوتر خانوں کے مسئلے کو ہوا دی ہے۔ سپکال نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ ولادس راؤ دیشمکھ نے اپنے دور میں ریاست میں فساد کنٹرول فورس قائم کی تھی، لیکن دیویندر فڈنویس نے ’فساد کرو‘ فورس بنائی ہے، جو ناگپور، پونے، ناسک اور ممبئی میں بھیج کر سماجی امن کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جین برادری کے عظیم رہنما مہاویر نے عاجزی، عقل و شعور اور انکساری کی تعلیم دی تھی، لیکن اس پر عمل ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔

مہاراشٹر پردیش کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال کی موجودگی میں این ایس یو آئی کے نو منتخب مہاراشٹر صدر ساگر سالوکھے کا حلف برداری پروگرام تِلک بھون میں منعقد ہوا۔ سابق صدر عامر شیخ نے عہدے کی باگ ڈور سالوکھے کو سونپی۔ اس پروگرام میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری بی ایم سندیپ، سابق وزیر ڈاکٹر وِشوجیت کدم، این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری، سابق صدر عامر شیخ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کی لینی جادھو، سینئر صحافی نیرنجن ٹکلے سمیت سیکڑوں طلبہ موجود تھے۔

MPCC Urdu News 13 August 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading