چندرکانت پاٹل ہمیں کچھ بھی کہیں لیکن ہم انہیں ’چمپا‘ یا ’تربوزہ‘ نہیں کہیں گے بی جے پی کے ریاستی صدرچندرکانت پاٹل کو ریاستی کانگریس کے صدرناناپٹولے کا جواب

ممبئی:اقتدار ہاتھ سے جانے کی وجہ سے ریاست میں بی جے پی کے لیڈران اپنا ذہنی توازن کھوبیٹھے ہیں۔ مرکزی حکومت کی مددسے ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی تمام تر کوشش ناکام ہوجانے کی وجہ سے اب وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں اور اول جلول بکنے لگے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر چندرکانت پاٹل ہمیں جو کچھ بھی کہیں لیکن ہم بی جے پی لیڈران کو چمپّا یا ’تربوزہ‘ نہیں کہیں گے کیونکہ یہ ہماری روایت نہیں ہے۔ چندرکانت پاٹل اگریہ سوچتے ہیں کہ وہ اس طرح کی چمپی گیری سے مرکزی حکومت کی ناکامیوں اورمراٹھا وابی سی برادری کو دھوکہ دینے کے گناہ پر پردہ ڈال دیں گے؟ تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ کیونکہ ریاست کی عوام اب ان سے اچھی طرح واقف ہوچکی ہے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔

ناناپٹولے نے کہا کہ مرکزکی نریندرمودی حکومت تمام محاذوں پر بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں۔ مرکزی حکومت کے ذریعے بنائے گئے تینوں زرعی قوانین کے خلاف کسان دہلی کی سرحد پر گزشتہ ۸ مہینے سے احتجاج کررہے ہیں۔ کورونا کی وبا پر قابو پانے کے لئے مودی حکومت کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں ہے۔ ویکسی نیشن مہم کی ہوا نکل چکی ہے۔ گنگاندی میں بہنے والی لاشوں کودنیا بھر کے ہزاروں چینلوں نے دکھایا جس کی وجہ سے مودی حکومت کی آبرو بھرے بازار میں نیلام ہوچکی ہے۔ مودی حکومت نے مرکزی وزیرصحت اورپٹرولیم وزیر کو تبدیل کرکے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ لیکن چندرکانت پاٹل جیسے ہذیان گو اپنی مخالف پارٹیوں کے لیڈران پر تنقید کرکے مودی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ناناپٹولے نے کہا کہ چندرکانت پاٹل ہم پر چاہے جس قدر نچلی سطح پر جاکر تنقید کریں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اگر ہم پر کی جانے والی ان کی تنقیدوں سے پٹرول،ڈیژل ودیگر ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتیں ہوسکیں، ملک کے تمام لوگوں کو کورونا سے حفاظتی ٹیکہ لگ سکیں، مودی حکومت کے ذریعے لائے گئے تینوں سیاہ وکسان مخالف زرعی قوانین رد ہوسکیں، مرکزی حکومت کے ذریعے قصداً عدالت کے ذریعے رد کئے ہوئے مراٹھا واوبی سی ریزرویشن مل سکے تو چندرکانت پاٹل کی تنقیدوں کا ہم استقبال کریں گے۔پٹولے نے کہا کہ نتن گڈکری کے کارخانے کی تفتیش کرنے کا مطالبہ امیت شاہ سے کرکے اگر چندرکانت پاٹل گڈکری کی زبان بند رکھنے کی کوشش کررہے ہیں تو بھی وہ ہماری آواز نہیں دبا سکتے۔ ہم ملک کے غریبوں، محنت کشوں، وکسانوں کے حقوق وان کے ساتھ انصاف کرنے کے لئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ ای ڈی و سی بی آئی کا استعمال کرتے ہوئے امیت شاہ ہماری آواز نہیں بند کرسکے، اس لئے چندرکانت پاٹل کو چاہئے کہ وہ طوطے کی طرح بولنے کے بجائے مرکزی حکومت نے قصداً جومراٹھا واوبی سی ریزرویشن ردکروادیا ہے، اسے بحال کرانے کے لئے کوشش کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading