MPCC Urdu News 1 April 22

وزیر اعظم مودی ملک میں مہنگائی پر کب بات کریں گے؟: ناناپٹولے

ملک کے سنگین مسائل کو چھوڑکر پی ایم مودی ’پرچارمنتری‘ کی طرح ایوینٹ کرنے میں مست

ممبئی:وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس مہنگائی، گرتی ہوئی معیشت اور بے روزگاری سمیت ملک کے سلگتے مسائل کو حل کرنے کا وقت نہیں ہے۔ عوام مہنگائی سے نبردآزما ہیں، نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہیں، کسانوں اور مزدوروں کی روزی روٹی خطرے میں ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے ’چائے پرچرچا‘ اور’امتحانات پر چرچا‘’ میں مست ہیں۔ وزیر اعظم مودی پر یہ سخت تنقیدریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے کی ہے۔ انہوں نے مودی سے پوچھا ہے کہ آخر وہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کب چرچا کریں گے۔

ناناپٹولے نے کہا ہے کہ ملک کے عوام اس وقت مہنگائی سے دوچار ہیں۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی نے عام آدمی کا جینا مشکل کر دیا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ بڑھ رہی ہیں اور اب یہ 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس دوران کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت میں 250 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ مہنگائی ہر سطح پر عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے چائے بھی مہنگی کردی ہے۔ اس کے باوجود مرکزی حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔پٹولے نے کہا وزیر اعظم مودی کے پاس ان اہم مسائل پر توجہ دینے کا وقت نہیں ہے لیکن وہ طلبہ کی رہنمائی کے نام پر امتحان دینے کے بارے میں ضرورچرچاکررہے ہیں، جبکہ انہیں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دیگر مسائل پر بھی اسی طرح سے چرچا کرنی چاہیے تھی۔

پٹولے نے کہا کہ یہ کس قدرمضحکہ خیز بات ہے کہ ایک شخص جس کے پاس تعلیم کا ٹھوس علم نہیں ہے اور ان کی ڈگری کے جعلی ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے، وہ طلباء کو امتحان کے بارے میں رہنمائی کر رہے ہیں۔پٹولے نے کہا کہ طلباء اور والدین دونوں کوہی مستقبل کی فکر ہے لیکن وزیر اعظم مودی انہیں بے وجہ مشورہ دے رہے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے یہ بھی کہا کہ کیا اب طلباء کو مودی سے وہ سبق بھی سیکھنا پڑے گا جس میں انہوں نے گٹر کے گیس پر چائے بنانے کی کہانی سنائی تھی؟

ستیش اوکے کے ذریعے مجھے اور کانگریس کو بدنام کرنے کی سازش: نانا پٹولے

کچھ بی جے پی لیڈر قانونی تنازعات میں الجھ گئے تھے جس کی وجہ سے ای ڈی کی کارروائی ہوئی ہے

ممبئی:ای ڈی کے ذریعہ ناگپور کے وکیل ستیش اوکے کی گرفتاری کے بعد، ان کی ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے کے وکیل کے طور پر تشہیر کی جارہی ہے۔ اس کے جواب میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ جس تیزی کے ساتھ ریاست میں کانگریس پارٹی کی حمایت بڑھ رہی ہے، مجھے اور کانگریس پارٹی کو جان بوجھ کر بدنام کرنے کی سازش رچی جارہی ہے۔

اس ضمن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ مرکزی تفتیشی ایجنسی کے ذریعے دباؤ کی سیاست کی جارہی ہے، سیاسی مخالفین کو نشانہ بناتے ہوئے اب ان سے وابستہ افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔ ناگپور کے وکیل ستیش اوکے نے بی جے پی کے کچھ لیڈروں کے خلاف شکایت درج کرائی ہے، جن میں سے کچھ قانونی تنازعات میں الجھ سکتے ہیں۔ اس لیے ای ڈی کے ذریعے ان کے خلاف سازش رچی گئی، جس کے لیے ای ڈی کی ٹیم کو ممبئی سے ناگپورلے جایا گیا اور سنٹرل پولس فورس سے تعاون لیا گیا۔ آپریشن کے دوران ناگپور ای ڈی اور پولیس کو بھی اندھیرے میں رکھا گیا تھا تاکہ کسی کو اس کی بھنک نہ لگ سکے۔ ستیش اوکے نے کئی اہم معاملات میں لوگوں کی پیروی کی ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ ای ڈی کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کے بعد یہ کہہ کر میری شبیہ خراب کی جارہی ہے کہ ستیش اوکے صرف نانا پٹولے کے وکیل ہیں لیکن مخالفین اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے اسٹاک مارکیٹ گھوٹالے میں ملوث ہرشد مہتا کے لیے قانونی جنگ لڑی تھی۔ رام جیٹھ ملانی، جو واجپائی حکومت میں وزیر تھے، نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قاتلوں کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ حملے میں مجرم قرار پانے والے دہشت گرد افضل گرو کے لیے قانونی جنگ لڑی تھی۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر آج مجھے اور ستیش اوکے کو جوڑا جا رہا ہے تو اس وقت رام جیٹھ ملانی اور ارون جیٹلی کو ان کے موکلین کے ساتھ کیوں نہیں جوڑا گیا؟۔پٹولے نے کہا کہ ریاست میں کانگریس پارٹی کو ایس سی، ایس ٹی، او بی سی برادری سمیت تمام طبقات کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ کانگریس کی یہ بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عوامی حمایت بی جے پی کے لیے مسئلہ بنتی جارہا ہے، اس لئے ستیش اوکے کی آڑ میں مجھے اور کانگریس پارٹی کو بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے، لیکن ہم اس طرح کی سازشی سیاست سے ذرابھی خوفزدہ نہیں ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں