کانگریس کے ریاستی دفتر تلک بھون دادر میں یومِ مہاراشٹر کاجوش وخروش سے انعقاد، ریاستی صدر کا خطاب

ممبئی: ریاست کو درپیش مالی بحران کے باوجود مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت نے 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کو مفت ویکسین فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاستی حکومت کے فیصلے میں ریاستی حکومت کی مددکے طور پر اپنے پڑوس میں رہنے والے غریب خاندانوں کو گود لیں اور اپنے و ان کے ویکسی نیشن کے خرچ کو وزیر اعلی راحت فنڈ میں جمع کروائیں۔

یوم مہاراشٹر کے موقع پرریاستی کانگریس کے دفتر تلک بھون، دادر میں نانا پٹولے کے ذریعے پرچم لہرایا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے ریاست کے لوگوں کو یومِ مہاراشٹر اور یوم مزدورکی مبارکباد پیش کی۔ اس پروگرام میں ریاستی کارگزارصدر نسیم خان، ریاستی جنرل سکریٹری راجیش شرما، یشونت ہاپّے، راجن بھوسلے، ڈاکٹر گجانن دیسائی،ریاستی ترجمان سچن ساونت، اتول لونڈھے،سکریٹری راجارام دیشمکھ،ڈاکٹر سید ذیشان احمد، میہول وورا، رمیش کیر، پرمود مور ے، ڈاکٹر سنجے لاکھے پاٹل اور دیوانند پوار وغیرہ موجود تھے۔

اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ کورونا ملک اور ریاست پر آیا ہوا ایک غیرمتوقع بحران ہے۔ روزآنہ ہونے والی اموات کی خبریں لرزہ براندام کردیتی ہیں۔ اس بحران کا مقابلہ ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت انتہائی جرأت ومستقل مزاجی سے کررہی ہے مگر مرکزی حکومت نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داریوں کوپسِ پشت ڈالتے ہوئے عوام کو بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ لیکن ریاستی حکومت عوام کو بے سہارا ہرگز نہیں چھوڑے گی۔ ریاستی حکومت نے 18سال سے زائد عمر کے لوگوں کو مفت ویکسین دینے کی پالیسی بنائی ہے، لیکن ریاست کی معاشی صورت حال کے پیشِ نظر امداد کا ہاتھ بڑھایا جانا ضروری ہے۔ کانگریس پارٹی نے اس معاملے میں پہل کرتے ہوئے اپنے اراکین اسمبلی کی ایک ماہ کی تنخواہ نیز ریاستی کانگریس کی جانب سے ۵ لاکھ روپئے وزیراعلیٰ راحت فنڈمیں دیا ہے۔

اس کے علاوہ تمام اضلاع میں کوویڈہیلپ سینٹر شروع کرتے ہوئے ضرورت مندمریضوں کے اسپتالوں میں بیڈکی فراہمی، طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بلڈ ڈونیشن کیمپوں کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ چونکہ ویکسی نیشن کے اخراجات بہت زیادہ ہیں اس لیے کانگریس کے کارکنان اپنے اپنے علاقے میں غریب خاندانوں کو گود لیں اوراپنے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ گود لیے ہوئے غریب خاندان کی ویکسی نیشن کا اخراجات وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ میں جمع کرائیں گے۔ اسی کے ساتھ رجسٹریشن کیے جانے سے لے کر ویکسی نیشن تک کے تمام مراحل میں لوگوں کی مدد کریں گے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ مرکزکی مودی سرکار نے کورونا کے بحران سے نمٹنے میں انتہائی لاپرواہی وغیرذمہ درای کا مظاہرہ کیا ہے۔ حکومت کی اس بے توجہی کی وجہ سے ملک میں کوورنا کی وباانتہائی سنگین صورت اختیار کرچکی ہے۔ جس پر سپریم کورٹ نے بھی مرکزی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا ملک کے لوگوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے؟ ملک کے بہت سے گاؤں شمشان میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ اس صورت حال پر قابوپانے کا واحد ہتھیار لوگوں کا بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن ہے لیکن مرکزی حکومت نے اپنے ملک کی ویکسین کو دوسرے ملکوں کو دیدیا ہے۔ جس پاکستان کو مستقل گالیاں دی جارہی تھیں، اسے ساڑھے چارکروڑ ویکسین دیا گیا ہے۔ یہ سب دیکھتے ہوئے یہ بات بلاترددکہی جاسکتی ہے کہ ایسا غیرذمہ دار ولاپراہ وزیراعظم دنیا کے کسی ملک نے نہیں دیکھا۔