یو سی سی:پہلے مسودہ تو آنے دیجئے

یونیفارم سول کوڈ سے متعلق جسٹس بلویرسنگھ چوہان کی سربراہی میں 2019میں 21 ویں لاء کمیشن کا تقررکیا گیا تھا۔ اس وقت حکومت کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کمیشن نے صاف طور سے کہا تھا کہ موجودہ وقت میں یونیفارم سول کوڈ (یوسی سی)نہ ہی مطلوب ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے،(Neither Desirable Nor Necessary)۔ کمیشن کے مطابق فیملی قانون میں ترمیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ایک جیساہی قانون بنایاجائے۔جسٹس بلویرسنگھ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کچھ اصلاحات تجویز کی تھیں، جن کو لاگو کرنے کے بجائے حکومت اب تمام مذاہب کے لیے یونیفارم سول کوڈ (UCC) لانے پراصرار کر رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حکومت کی اس اقدام کامقصد سماج کے مختلف طبقات کے ساتھ انصاف کرنا نہیں بلکہ آنے والے چار ریاستوں کے انتخابات اور سال بھر میں ہونے والے عام انتخابات کے پیشِ نظر سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔

راہل گاندھی کے ’بھارت جوڑو یاترا‘ نے پورے ملک کے ماحول کا تبدیل ہوگیا ہے اور کرناٹک انتخابات میں بی جے پی کو لگنے والا زبردست جھٹکا اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔سماجی عدم مساوات، بیروزگاری، مہنگائی، کسانوں کی ابترحالت، چھوٹے کاروباریوں وکارخانوں پرپڑنے والے ناقص معاشی پالیسی کے بداثرات، خواتین پر ہونے والے مظالم، مختلف سماجی طبقات پرہونے والے حملے،مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا بے دریغ غلط استعمال اور تعلیم وصحت کے گراف کا بڑے پیمانے پر گرنا اور اس سے غریب طبقے کو ہونے والے نقصانات جیسے حالات نے عوام کو بی جے پی کے خلاف کھڑا کردیا ہے۔ اس صورتحال میں عوامی ناراضگی کو دور کرنے کے لیے کوئی راستہ نکالنے کے بجائے حکومت سماج میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے،جس کا ایک حصہ نہایت عجلت میں یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) لانے کے ارادے کا اظہارہے۔

دراصل 21ویں لاء کمیشن کی رپورٹ کوبالائے طاق رکھ کر 22 ویں لاء کمیشن کوایکٹیو کردیا گیا ہے۔اس میں بھی اسے مناسب وقت نہ دیتے ہوئے عجلت میں رپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔وزیراعظم نے یونیفارم سول کوڈ لانے کا اعلان توکردیا، لیکن اس کا مسودہ عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ اس سے مسلم طبقے میں یہ خوف پیدا ہوگیا ہے کہ حکومت ان کے پرسنل لاء میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔ اگرچہ حکومت نے یو سی سی کا مسودہ نہیں دیا ہے، اس کے باوجود مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر بے چینی بڑھ گئی ہے۔یوں بھی جب مذہب سے متعلق اس طرح کی تشویش پیدا ہوتی ہے تو مسلمانوں میں بے چینی کا بڑھ جانالازمی ہوتا ہے۔

اس بے چینی کا مشاہدہ ہم نے شاہ بانو کیس میں کیا ہے۔ اس وقت کسی بھی مذہبی قانون میں کوئی مداخلت نہیں ہوتی تھی۔لیکن ایک طلاق یافتہ معمرخاتون کو اس کے شوہرجو خود ایک بڑے وکیل تھے، کی جانب سے ماہانہ پانچ سو روپئے بھتہ دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے مسلمانوں میں زبردست ناراضگی پیدا ہوگئی۔مسلمانوں کی ناراضگی کے پیشِ نظر اس وقت کے وزیراعظم راجیوگاندھی نے بھتہ سے متعلق قانون (CRPC-125) سے مسلم کمیونیٹی کو مستثنیٰ کردیا اوراس کے نتیجے میں ہندوسماج میں پیدا ہونے والے ردعمل کو روکنے کے لیے بابری مسجد کے دروازے کھول دیئے۔اس بات سے شاید ہی کوئی انکار کرسکے کہ مسلمانوں کی اسی غلطی کی وجہ سے آج بی جے پی اقتدار میں ہے۔

یہاں ایک بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ اس وقت شاہ بانو معاملے کی مخالفت کرنے والوں میں سید شہاب الدین جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سرکردہ مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔کسی بھی معاشرے کو صحیح سمت دکھانے سے متعلق یہ توقع کی جاتی ہے کہ یہ ذمہ داری اس معاشرے کے اعلیٰ ومتوسط طبقے کے پڑھے لکھے افراد نبھائیں، لیکن بدقسمتی سے مسلم معاشرے میں اس رجحان کا آج بھی فقدان نظر آتا ہے۔بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمانوں پر طرح طرح سے حملے ہورہے ہیں۔ گجرات میں تو مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ لیکن ملکی سطح پر مسلمانوں کی جانب سے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں ہوا۔

بلقیس بانوکے خاندان کے افراد کو قتل کردیاگیا اور اس بدنصیب کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔اس جرم میں گیارہ لوگوں کو عمرقید کی سزا ہوئی، جنہیں امرت مہوتسو کے دن معاف کرتے ہوئے حکومت نے جیل سے رہا کردیا۔ان کے جیل سے باہر آنے پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور ان کا استقبال کیا گیا، لیکن مسلمانوں کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ملک میں روزآنہ مسلمانوں کے لنچنگ کے واقعات ہورہے ہیں، روزآنہ کہیں نہ کہیں مارپیٹ ہورہی ہے، علانیہ طور پر مسلمانوں کے خلاف مورچے نکل رہے ہیں، انتہائی اشتعال انگیز زبان میں نعرے بازی کی جارہی ہے۔ ’فلاں بستی میں جائیں گے اور برقعے والی لائیں گے‘ جیسے دل آزارنعرے آئے دن لگائے جارہے ہیں۔

تعلیم کے میدان میں مسلمان دیگر کمیونیٹی سے بہت پیچھے ہیں۔ شہر میں رہنے والے 5-10 فیصد مسلمانوں کو چھوڑ کر باقی تمام جھوپڑپٹیوں میں رہتے ہیں۔ مسلم نوجوان ملازمتوں سے محروم ہیں۔ زندہ رہنے کے لیے چھوٹے موٹے کاروبار کرکے وہ کسی نہ کسی طرح روزی روٹی کمارہے ہیں۔ ان کی بستیاں کی بستیاں جلا دی جاتی ہیں، ان پر بلڈوز چلادئے جاتے ہیں۔لیکن ان سب کے خلاف مسلمان کہیں بھی قابل ذکر طو رپر سڑکوں پر اترتے ہوئے نظر نہیں آتے، یہی نہیں بلکہ ان کے اندر بے چینی بھی نظر نہیں آتی ہے۔

ایک طرف غریب مسلمانوں کے تئیں مکمل بے حسی ہے تو دوسری طرف خواتین کے مسائل سے مکمل بے توجہی۔ شاہ بانو کیس کے بعد کئی مسلم خواتین اجتماعی طور پر اپنے حقوق مانگ رہی ہیں۔ خواتین کے حقوق پر مشتمل نکاح نامہ بھی تیار کیا گیا، کانفرنسیں بھی منعقد ہوئیں، جلوس بھی نکالے گئے لیکن اعلیٰ طبقے کے پڑھے لکھے مسلمانوں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔مسلمانوں کے امراء طبقے کے بچے انگلینڈ وامریکہ جیسے ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر وقت وہ وہاں ہی رہتے ہیں اور وہاں کے قوانین کے مطابق اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ اس وقت انہیں اسلامی قوانین نہیں یاد رہتے ہیں۔ جدید تعلیم سے لیس ہوکر دورِجدیدیت کے تمام فائدے 5-10 فیصد مسلمان ہی حاصل کریں اور بقیہ مسلمان غربت،بیچارگی و ناانصافی کے کب تک شکار رہیں؟ آخر یہ کب تک چلے گا؟اپنی قوم کے لوگوں کو اس صورت حال سے باہر نکالنے کے لیے کیا جدیدتعلیم یافتہ مسلمانوں کوغوروفکر کے ساتھ کوشش نہیں کرنی چاہئے؟آج، مسلم خواتین برابری (صنفی مساوات) کے مطالبات پر اصرار کررہی ہیں، ہم اسے کب تک نظر انداز کرتے رہیں گے؟

کئی بار اس طرح کی باتیں کہی جاتی ہیں کہ”جانے دو حسین بھائی، ہماری قوم جاہل ہے، اس کے بارے میں کیا بولتے ہو“۔ جب یہ باتیں کہی جاتی ہیں تویقین جانئے مجھے بہت برا لگتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے ہی نہیں کسی بھی سماج کے پچھڑے ومحروم لوگوں کے لیے اس سماج کے اعلیٰ طبقے وپڑھے لوگ اگر یہ سوچ وموقف رکھتے ہیں تواسے قطعی طور پر مناسب نہیں کہا جاسکتا۔ یہ سب دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ہمیں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ برہمنوں،مراٹھوں بلکہ دلتوں میں آج جو ترقی ہورہی ہے، وہ اس طبقے کے سرکردہ لوگوں کے تعاون کی وجہ سے ہورہی ہے۔یوسی سی کے نفاذ سے متعلق حکومت زور دے رہی ہے جبکہ مسلمانوں کے پرسنل لاء میں بھی بہت سی پیش رفت ہوئی ہیں۔ کیا وہ پیش رافت واصلاحات یوسی سی میں شامل کی جانے والی ہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ آج کی صورت حال میں سماج میں پیدا ہونے والے غیر محفوظ ماحول میں اسلام کی کچھ ترقی پسند باتوں کی جانب توجہ مبذول کرانا نہایت ضروری ہے۔

1) اسلام کے مطابق نکاح ایک معاہدہ ہے۔یہ معاہدہ اسی وقت معرضِ وجود میں آسکتا ہے جب اس پر باہمی اتفاق ہو۔اگر دونوں میں اختلاف ہو تویہ معاہدہ منسوخ ہو سکتا ہے اور اسے باطل بھی قراردیا جاسکتا ہے۔ تین بار طلاق طلاق طلاق بول کر طلاق دینے کا رواج بند ہوچکا ہے جو اچھا ہی ہوا۔ تین طلاق کی روایت تمام مسلمانوں میں نہیں تھی اور قرآن وحدیث میں بھی اس کی کوئی تائید نہیں ملتی۔ لیکن یہ رواج قانون کے ذریعے ختم کیاگیا اور مسلمانوں کی جانب سے اس کی کوئی خاص مخالفت بھی نہیں ہوئی، اس بات کا استقبال کیا جانا چاہئے۔

2)نکاح کے بعد ’مہر‘ادا کرنی ہوتی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ عرب ممالک میں مہرکی مقدار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں خواتین کی زندگیاں محفوظ ہوگئی ہیں اور طلاق کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔ مہر کا یہ تصور تمام خواتین کے لیے کیوں لاگو نہیں ہونا چاہئے؟

3) مروعورت کو مذہبی وسماجی طور پر ایک ساتھ رہنے کی اجازت کوایک عمل کے ساتھ مشروط رکھا گیا ہے۔اسلام میں اس عمل کو نکاح کہاجاتا ہے۔ ماناجاتا ہے کہ جوڑے اللہ بناتے ہیں۔ہندومذہب میں اگر ایک بار شادی ہوگئی تو پھر علاحدگی نہیں ہوسکتی، پھر چاہے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں۔ اس میں کچھ تبدیلیاں کرکے عدالت کے ذریعے طلاق کی اجازت دے دی گئی ہے۔ لیکن جب وہ علاحدگی کے لیے عدالت جاتے ہیں تو 10 سے 15 سال تک الزامات اور جوابی الزامات میں گزرجاتے ہیں اور دونوں کی زندگیاں برباد ہوجاتی ہیں۔اگر دنوں فریق متفق ہوں تو بھی 3 سے 4 سال بہ آسانی سے ضائع ہو ہی جاتے ہیں۔ مسلم معاشرے میں طلاق ثلاثہ کے ذریعے طلاق دینے کا رواج ختم ہو چکا ہے جو یقیناً خوش آئند ہے۔ لیکن اگر میاں بیوی میں شدید اختلافات ہوں تو بھی بہ آسانی الگ نہیں ہواجاسکتا،اس میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے۔

4) سب سے اہم بات یہ کہ مسلم معاشرے میں بیٹی کو بیٹے کے کل حصہ کا آدھا حصہ نہ صرف باپ کی کمائی ہوئی جائیداد میں ملتا ہے بلکہ آبائی وراثت کے ذریعے بھی ملتا ہے۔ اگر بیٹی کو یہ آدھا حصہ ملنے کی بجائے بیٹے جیسا حق مل جائے تو اسلام میں کوئی اعتراض نہیں۔ اسلام میں ایسی کوئی چیز نہیں جو بھائی کو اپنی بہن کو برابر حصہ دینے سے روکتی ہو۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے حوالے سے ہمیشہ سخاوت اور مساوات کا رویہ رکھا ہے۔ ہندو قوانین میں ایک حالیہ ترمیم نے آبائی جائیداد میں بیٹی کو حق دیا ہے۔ لیکن شادی کے وقت اس سے”حق چھوڑ نے کا حلف نامہ“لیاجاتا ہے۔ اس حلف نامہ یا معاہدہ کے تحت اسے اس حق سے محروم کردیا جاتا ہے دیگر صورت میں جس کی وہ حقدار ہوسکتی ہے۔ اس ضمن میں ایک کلکٹر صاحب نے ہنستے ہوئے مجھے بتایا، ”شادی کے موسم میں ہمارے دفتر میں ”حق چھوڑنے کا حلف نامہ“ کے لیے طویل قطار لگی ہوتی ہے۔ اس کوروکنے اوراصلاح کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

5) ہندو قانون کے مطابق باپ کی کمائی ہوئی جائیداد میں بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر کا حصہ دیا گیا ہے لیکن باپ وصیت کے ذریعے بیٹی کواس حق سے محروم کر سکتا ہے اور یہ عام طور پر ہورہا ہے۔ اس طرح وصیت کے ذریعے اپنی جائیداد سے محروم کرنے کا حق دیکر مذاہب کے لوگوں کو نہیں ہے۔ اس لیے ہندوؤں کا وصیت کایہ اختیار ختم کیا جاناچاہئے تاکہ ہندوخواتین کو ان کا حق مل سکے اور ان کے ساتھ انصاف ہوسکے۔

حکومت ووٹ بینک کی سیاست کے پیشِ نظر مسلمانوں کو توڑنے کرنے اور ہندومسلم منافرت پیدا کرنے کی بھرپورکوشش کر رہی ہے۔اس صورت حال میں ہم مسلمانوں کو کیا موقف اختیار کرناچاہئے اس پرغورکیاجانا بہت ضروری ہے۔

حسین دلوائی

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading