علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے طلبا کا شہریت قانون کے خلاف زبردست مظاہرہ گزشتہ کچھ دنوں سے جاری ہے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا پر دہلی پولس کی بربریت کے بعد اے ایم یو طلبا کا احتجاج مزید بڑھ گیا ہے۔ اتوار کی شب طلبا اور پولس کے درمیان تصادم کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں اور میڈیا ذرائع کے مطابق جہاں ایک طرف طلبا نے پولس پر پتھراؤ کیا وہیں پولس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے کا استعمال کیا۔



اس درمیان اتر پردیش کے ڈی جی پی نے اے ایم یو کیمپس جلد سے جلد خالی کرائے جانے کی بات کہی ہے۔ ایک انگریزی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا کہ ’’آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی احاطہ کو خالی کرا دیا جائے گا۔ سبھی طالب علم کو گھر بھیجنے کی تیاری کی گئی ہے۔‘‘ یو پی پولس کا الزام ہے کہ طلبا نے ان پر پتھراؤ کیا جس کے بعد ہی پولس نے کارروائی کرتے ہوئے آنسو گیس کے گولے کا استعمال کیا۔ ان ہنگاموں کے بیچ احتیاطاً یونیورسٹی کو 5 جنوری تک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق سبھی امتحانات بھی فی الحال ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ یہ جانکاری اے ایم یو کے رجسٹرار عبدالحامد نے دی۔ انھوں نے کہا کہ ’’موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے 5 جنوری تک سرمائی تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔ امتحانات اس کے بعد کرائے جائیں گے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا پر دہلی پولس کے ذریعہ لاٹھی چارج کیے جانے کی خبروں کے بعد اے ایم یو کے طلبا مشتعل ہو گئے تھے۔ دہلی پولس کی کارروائی کے خلاف انھوں نے اے ایم یو کیمپس میں مارچ نکالا۔ طلبا یونیورسٹی کیمپس سے باہر جانا چاہتے تھے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ بعد ازاں طلبا اور پولس کے درمیان تنازعہ بڑھ گیا۔ پھر پتھراؤ اور لاٹھی چارج شروع ہو گئی جس میں 20 طالب علم کے ساتھ ساتھ 10 پولس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ پولس نے کچھ طلبا کو حراست میں بھی لیا جنھیں بعد میں چھوڑ دیا گیا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
