اتر پردیش میں یوگی حکومت کے خستہ نظام کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں اور صحت خدمات کا تو بی جے پی حکومت میں انتہائی برا حال ہے۔ اس بدحالی کی نئی تصویر سامنے آئی ہے جو یوگی حکومت کی بدنامی کا سبب بن رہی ہے۔ ریاست میں بریلی کے سرکاری اسپتال میں 4 دن کی معصوم بچی نے ڈاکٹروں کی لاپروائی کی وجہ سے دم توڑ دیا، اور اس خبر سے علاقے کے لوگوں میں غم و غصہ کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔
UP: 1 doctor suspended after girl dies of negligence in Bareilly
Read @ANI Story| https://t.co/R58xTehCJt pic.twitter.com/FnMAjjnPKs
— ANI Digital (@ani_digital) June 20, 2019
میڈیا ذرائع کے مطابق نوزائیدہ بچی کو لے کر اس کی دادی کسما دیوی بریلی کے اسپتال پہنچی تھی۔ بچی کو سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی۔ بچی کو لے کر اس کی دادی اسپتال کے مینس وِنگ میں گئی لیکن وہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے انھیں ویمنس وِنگ میں جانے کے لیے کہا۔ جب وہ ویمنس وِنگ میں پہنچی تو ڈاکٹر نے بیڈ کی کمی کا حوالہ دے کر اسے دوبارہ مینس وِنگ میں بھیج دیا۔ افسوسناک یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر بیمار بچی کی دادی نے پوری روداد سنائی اس کے باوجود اسے علاج کے لیے داخل نہیں کیا گیا۔ بچی کی دادی نے بتایا کہ وہ اسی طرح 3 گھنٹے تک اسپتال میں اِدھر سے اُدھر بھٹکتی رہی اور آخر کار بچی نے دَم توڑ دیا۔
I have ordered suspension of CMS of Male Hospital Bareilly on the negligence of duty and have ordered for departmental proceedings against CMS of Women Hospital.
Any insensitivity by Govt. officials will not be tolerated in #NewUP— Yogi Adityanath (@myogiadityanath) June 19, 2019
اسپتال میں بچی کو ایک وِنگ سے دوسرے وِنگ میں بھیجنے کی ہدایت بچی کی میڈیکل پرچی میں درج ہے جس کی وجہ سے اسپتال کی لاپروائی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق بچی کی موت کے بعد دونوں وِنگ کے ڈاکٹروں کے درمیان تلخ بحث بھی ہوئی۔ معاملہ بڑھتا ہوا دیکھ کر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مداخلت کرتے ہوئے ڈاکٹر کو سزا دیئے جانے کا فیصلہ لیا۔ بدھ کی رات ٹوئٹ کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھا کہ ’’ڈیوٹی پر لاپروائی برتنے پر بریلی اسپتال کے مینس وِنگ کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو معطل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ویمنس وِنگ کی سپرنٹنڈنٹ کے خلاف محکماتی کارروائی کا حکم بھی صادر کیا گیا ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے ایک دیگر ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’سنگین طور پر بیمار بچی کو مینس وِنگ لانے کے بعد کارروائی کی گئی جہاں مناسب تعداد میں امراض اطفال کے ماہر ڈاکٹر موجود تھے۔ لیکن بچی کا علاج کرنے کی جگہ اسے خاتون وِنگ میں بھیج دیا گیا۔ اسپتال کے خاتون وِنگ کی سپرنٹنڈنٹ نے بچی کو دوبارہ مینس وِنگ میں بھیج دیا۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
