یوگی راج کا حال! بیمار معصوم بچی کو لے کر اسپتال میں بھٹکتی رہی دادی، معصوم نے توڑا دَم

اتر پردیش میں یوگی حکومت کے خستہ نظام کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں اور صحت خدمات کا تو بی جے پی حکومت میں انتہائی برا حال ہے۔ اس بدحالی کی نئی تصویر سامنے آئی ہے جو یوگی حکومت کی بدنامی کا سبب بن رہی ہے۔ ریاست میں بریلی کے سرکاری اسپتال میں 4 دن کی معصوم بچی نے ڈاکٹروں کی لاپروائی کی وجہ سے دم توڑ دیا، اور اس خبر سے علاقے کے لوگوں میں غم و غصہ کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔


میڈیا ذرائع کے مطابق نوزائیدہ بچی کو لے کر اس کی دادی کسما دیوی بریلی کے اسپتال پہنچی تھی۔ بچی کو سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی۔ بچی کو لے کر اس کی دادی اسپتال کے مینس وِنگ میں گئی لیکن وہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے انھیں ویمنس وِنگ میں جانے کے لیے کہا۔ جب وہ ویمنس وِنگ میں پہنچی تو ڈاکٹر نے بیڈ کی کمی کا حوالہ دے کر اسے دوبارہ مینس وِنگ میں بھیج دیا۔ افسوسناک یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر بیمار بچی کی دادی نے پوری روداد سنائی اس کے باوجود اسے علاج کے لیے داخل نہیں کیا گیا۔ بچی کی دادی نے بتایا کہ وہ اسی طرح 3 گھنٹے تک اسپتال میں اِدھر سے اُدھر بھٹکتی رہی اور آخر کار بچی نے دَم توڑ دیا۔


اسپتال میں بچی کو ایک وِنگ سے دوسرے وِنگ میں بھیجنے کی ہدایت بچی کی میڈیکل پرچی میں درج ہے جس کی وجہ سے اسپتال کی لاپروائی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق بچی کی موت کے بعد دونوں وِنگ کے ڈاکٹروں کے درمیان تلخ بحث بھی ہوئی۔ معاملہ بڑھتا ہوا دیکھ کر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مداخلت کرتے ہوئے ڈاکٹر کو سزا دیئے جانے کا فیصلہ لیا۔ بدھ کی رات ٹوئٹ کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھا کہ ’’ڈیوٹی پر لاپروائی برتنے پر بریلی اسپتال کے مینس وِنگ کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو معطل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ویمنس وِنگ کی سپرنٹنڈنٹ کے خلاف محکماتی کارروائی کا حکم بھی صادر کیا گیا ہے۔‘‘

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے ایک دیگر ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’سنگین طور پر بیمار بچی کو مینس وِنگ لانے کے بعد کارروائی کی گئی جہاں مناسب تعداد میں امراض اطفال کے ماہر ڈاکٹر موجود تھے۔ لیکن بچی کا علاج کرنے کی جگہ اسے خاتون وِنگ میں بھیج دیا گیا۔ اسپتال کے خاتون وِنگ کی سپرنٹنڈنٹ نے بچی کو دوبارہ مینس وِنگ میں بھیج دیا۔‘‘

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading