گھر میں قائم مدرسے میں سات سالہ بچی زیادتی کا شکار

ٹوبہ ٹیک سنگھ : پاکستان کے ٹوبہ ٹیک سنگھ علاقغ میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا جہاں گھر میں قائم مدرسے میں سات سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا . تفصیلات کے مطابق ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل پیرمحل کے نواحی گاؤں میں گھر سے مدرسے جانے والی سات سالہ بچی کو ملزم نے اغوا کر کے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا .

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ متاثرہ بچی مدرسے میں جس اُستاد کے پاس پڑھنے کے لئے جایا کرتی تھی اسی کے بھائی نے بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا. بچی کے شور مچانے پر ملزم نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن اہل علاقہ نے ملزم کو پکڑ کر اس کی خوب درگت بنائی اور بعدازاں اسے پولیس کے حوالے کر دیا. پولیس کا کہنا تھا کہ بچی جس اُستاد کے پاس قرآن کی تعلیم حاصل کرنے جاتی تھی وہ اپنے گھر میں ہی بچی کو پڑھاتا تھا. پولیس کے مطابق اُستاد کے بھائی نے موقع پا کر بچی کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا. پولیس نےبچی کے ورثاء کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے.

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کے والدین کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے بچی کا میڈیکل کروایا جا رہا ہے تاہم میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ہی ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کو مزید آگے بڑھایا جائے گا.

میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی جی پنجاب انعام غنی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او فیصل آباد سے بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کی مکمل رپورٹ طلب کرلی ہے اور حکم دیا کہ بچی کی ورثا کی ہرممکن داد رسی کی جائے اور ملزم کو قانون کے مطابق کڑی سزا دلوائی جائے. واقعہ کے بعد اہل علاقہ نے بھی احتجاج کیا اور کہا کہ اگر درسگاہوں میں بھی بچے محفوظ نہیں ہیں تو پھر کہاں محفوظ ہیں؟ مدرسے جیسی جگہ جہاں پر پاک کلام پڑھایا جاتا ہے وہاں بھی ایسے حیوان موجود ہیں جو کم سن اور معصوم کلیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں جو کہ قابل مذمت ہے.

اپنی رائے یہاں لکھیں