
ممبئی کے پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے جمعرات کو ٹی آر پی کے کھیل کا سنسنی خیز انکشاف کیا ، جس کے بعد ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ (ٹی آر پی)زیر بحث رہا۔ جمعرات کے روز ممبئی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے کہا کہ ممبئی کرائم برانچ نے ایک نئے ریکیٹ خلاصہ کیا ہے۔ اس ریکیٹ کا نام ‘فالس ٹی آر پی ریکیٹ’ ہے۔ پولیس ٹی آر پی میں ہیر پھیر سے جڑے گھوٹا لے کی جانچ کر رہی ہے ۔ آئیے جانتے ہیں کہ ٹی آر پی کیا ہے اور چینل نمبر ون بنانے میں اس کا کیا کردار ہے۔
کیا ہوتی ہے ٹی وی چینل کی ٹی آر پی؟
ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ یا ٹی آر پی ، ایک ایسا ٹول ہے جس کے ذریعہ یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ کونسا پروگرام یا ٹی وی چینل سب سے زیادہ دیکھا جا رہا ہے ۔ ساتھ ہی اس کی وجہ سے کسی بھی پروگرام یا چینل کی مقبولیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ، یعنی ، لوگ کسی چینل یا پروگرام کو کتنی بار اور کتنے وقت سے دیکھ رہے ہیں۔ پروگرام کی ٹی آر پی سب سے زیادہ ہونا مطلب سب سے زیادہ ناظرین اس پروگرام کو دیکھ رہے ہیں ۔
ٹی آر پی کا ڈیٹا اشتہار دینے والوں کے لئے بہت مفید ہے ، کیوں کہ اشتہار دینے والے صرف ان پروگراموں کو اشتہار دینے کے لئے منتخب کرتے ہیں جن کی ٹی آر پی زیادہ ہوتی ہے ۔ بتا دیں کہ ٹی آر پی کی پیمائش کے لئے کچھ جگہوں پر کچھ میٹر لگائے جاتے ہیں۔ اس کو ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ کچھ ہزار ناظرین کو انصاف اور نمونے کی صورت میں سروے کیا جاتا ہے اور ان ہی ناظرین کی بنیاد پر ان تمام کو ناظرین کو سمجھا جاتا ہے جو ٹی وی دیکھ ر ہے ہوتے ہیں ۔یہ پیپل میٹرز طے کرتے ہیں کہ کون سا پروگرام یا چینل کتنی بار دیکھا جارہا ہے ۔
کیسے طے کی جاتی ہے ٹی آر پی ؟
بار و میٹر BAR O Meter ک ذریعہ ، ٹی وی کی ہر منٹ کی جانکاری کو مانیٹرنگ ٹیم ، انڈین ٹیلی ویژن ناظرین کی پیمائش (INTAM ) تک پہنچایادیاجاتا ہے ۔ یہ ٹیم پیپل میٹر سے ملی جانکاری کا تجزیہ کرنے کے بعد طے کرتی ہے کہ کس چینل یا پروگرام کی ٹی آر پی کتنی ہے ۔ اس کا حساب کتاب کرنے کے لئے ناظرین کے ذریعہ باقاعدگی سے دیکھے جانے والے پروگرام اور وقت کو باقاعدگی سے ریکارڈ کیا جاتا ہے اور پھر اس ڈیٹا کو 30 سے گنا کر کے پروگرام کا اوسط ریکارڈ نکالا جاتا ہے ۔ یہ پیپل میٹر کسی بھی چینل اور اس کے پروگرام کے بارے میں مکمل جانکاری نکال لیتا ہے ۔
کیا ہے ٹی آر پی کا اثر؟
ٹی آر پی میں اضافہ یا کمی براہ راست ٹی وی چینل کی آمدنی کو متاثر کرتی ہے جس میں وہ پروگرام آرہا ہوتا ہے۔ جتنے بھی ٹی وی چینلز ہیں ، جیسے سونی ، اسٹار پلس ، زی چینل وغیرہ تمام اشتہار کے ذریعے پیسہ کماتے ہیں ۔اگر کسی پروگرام یا چینل کی ٹی آر پی کم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ لوگ اسے کم دیکھ رہے ہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ اس پروگرام میں اشتہار کے زیادہ پیسے نہیں ملیں گے یا پھر بہت کم اشتار دینے والے ملیں گے ۔ لیکن اگر کسی چینل یا پروگرام کی ٹی آر پی زیادہ ہوگی ، تو اس کو زیادہ اشتہارات ملیں گے اور اشتہار دینے والوں کے ذریعہ زیادہ پیسے بھی ملیں گے ۔
اس سے صاف ہے کہ ٹی آر پی نہ صرف چینل پر بلکہ کسی ایک پروگرام پر بھی منحصر ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر کسی رائزنگ اسٹار پروگرام کی ٹی آر پی دوسرے پروگراموں سے زیادہ ہے تو اشتہار دینے والے اپنااشتہار اس میں پروگرام میں دکھانا چاہیں گے اور زیادہ پیسے بھی دیں گے ۔