کچھ دردِ دل کی باتیں :اشکوں کی فریادرسی کون کرےگا

🖋عبدالرّحمٰن الخبیرقاسمی بستوی

نزیل:جامعہ انعام العلوم مالیگاؤں

(ماقبل کی تحریرمیں ایک حساس موضوع پرقلم بندکرنےکاوعدہ کیاتھا،لیکن مسلسل سفرکی وجہ سے اور اس حساس موضوع پر مغموم دلی کی وجہ سے بہت تاخیرہوئی……..قارئین کرام سےمعذرت)

بند کردو شادیوں میں لینا دینا اب جہیز

تا ختم ہوجائےملت سےیہ رسم فتنہ خیز

12 جنوری 2019 کو دو دن کیلئے آبائی وطن ضلع بستی کبیرنگر جانے کا اتفاق ہوا، دوسرے دن نو دس بجے کے قریب اپنے پڑوسی تنہواں چوراہے سے دوست واحباب سےملاقات کے بعد گھرجانے کے لئے پر تول رہا تھا ، ابھی گاڑی پر بیٹھنے ہی والا تھا ایک صاحب نے سلام کیا، اور کچھ رقم کا مطالبہ کیا، وہ صاحب اپنی پوشاک سے گداگر کسی صورت نظر ہی نہیں آرہے تھے، تو آخر دستِ سوال کیوں دراز کر رہے ہیں، میں نے از راہِ ہمدردی دریافت کیا؟

کہ آپ اپنی پوشاک سے گداگر تو ہرگز نہیں دکھائی دے رہے ہیں، آخر کس بات نے آپ کو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کیا؟ اس نے سر جھکا کر کہا کہ گداگری میرا پیشہ ہرگز نہیں ہے، لیکن اپنی پاک دامن بیٹی کی گزرتی عمر ، مرجھایا چہرہ، نم آنکھوں کو دیکھ کر دل برداشتہ ہو جاتا ہوں، اور اس ذلت آمیز اقدام پر مجبور ہوں ،منگنی میں 30000 ہزار رقم کا نقد مطالبہ ہے، میں نے کہا کہ آپ وہاں رشتہ ہی کیوں کر رہے ہیں جہاں پر منگنی میں اس طرح کے رقم کی فرمائش ہو رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا!!

بے شمار لوگوں نے میرے بیٹی کے رشتے کو اس لئے ٹھکرا دیا کہ میرے پاس بیش قیمت جہیز دینے کی حیثیت نہیں تھی،کہیں گاڑی کی فرمائش ، کہیں پر نقد رقوم کا مطالبہ،کہیں پر اعلیٰ قسم کے آرائش کے سامان اور اسی کشمکش میں پانچ چھ سال کا عرصہ گزر گیا، میں نے سوچا کہ کہیں میری بیٹی کنواری ہی نہ مر جائے، اس لئے اس رشتے کو میں نے طے کر لیا ہے، کہ ان پیسوں کا انتظام بھیک مانگ کر ہی سہی لیکن کر لوں گا، یہ رقم تو بہت مختصر ہے ورنہ متعدد لوگوں کا مطالبہ اتنا گراں تھا کہ میں بھیک مانگ کر بھی پورا نہیں کر سکتا تھا، میں واپس گھر آیا تحقیق کیا تو معلوم ہوا کہ یہ شخص پڑوس کے گاؤں میں رہتا ہے، اور اپنی بیٹی کی شادی کے اخراجات میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتا پھر رہا ہے،

جب کسی تعلق سے باتیں سامنے آتی ہیں تو دوسرے بھی اس موضوع پر گفت و شنید میں حصے دار بن جاتے ہیں، اسی بنیاد پر میرے ایک درسی ساتھی نے آنکھوں دیکھا حال گوش گزار کیا، کہ میرے ننہال گاؤں میں ایک عورت آئی اور وہ زار و قطار رو رہی تھی گویا اشکوں کے سیلاب میں فریاد کر رہی ہو ،وہ عورت ندامت کے اشکوں میں غوطے لگاتے ہوئے گویائی کی جسارت کی، میں بھکارن نہیں ہوں، نہ ہی مجھے بھیک مانگنی آتی ہے، یہ دن دیکھنے سے پہلے اے کاش زمین پھٹ جاتی اور میں اس میں دفن ہو جاتی، دراصل میرے گاؤں میں سب ہندو ہیں چند ہی گھر مسلمانوں کے ہیں اور وہ بھی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، اس گاؤں کی ایک ہندو بہن نے مشورہ دیا کہ میرے ساتھ تم چلو میرے مائیکے والا گاؤں مسلمانوں کا ہے وہ تمہاری مدد کریں گے، بڑی امیدیں لیکر اب لوگوں کے پاس آئی ہوں میری بیٹی کی شادی خانہ آبادی ہو جائے میری مدد کرو!!
مجھے گداگری نہیں آتی ہے اور میں نے کبھی کسی کے سامنے دستِ دراز نہیں کیا ہے، اس کی دکھ بھری کہانی سن کر گاؤں والے متفکر اور غمگین ہو گئے، گاؤں والوں نے اپنی حیثیت کے مطابق امداد کیا،
اسی تعلق سے ہمارےبہت ہی قریبی دوست قاری کلیم الدین صاحب نے چشم دید واقعہ بیان کیا کہ میرے ایک رشتہ دار ہیں جو قدرتی طور پر بینائی سے محروم ہیں، ان کی تقریباً چھ بیٹیاں ہیں اور وہ غریب گھر سے تعلق رکھنے والے ہیں انہوں نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی کی تو زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا فروخت کیا، اور اسی رقوم سے لڑکیوں کے جہیز اور باراتیوں کے کھانے کا بندوبست کیا، میں نے پوچھا!!
قاری صاحب بقیہ تمام لڑکیوں کی شادی میں وہ کہاں سے رقوم کا انتظام کریں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ مختصر زمین اور ہے اسی کو فروخت کرکے شادی کرنا پڑے گا، کیوں کہ ان کا فرزند ابھی چھوٹا ہے، کمانے کے لائق نہیں ہے، زمین فروخت کے علاوہ ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے-
یہ حقیقی واقعات ہی دلی صدمہ پہنچانے کے لیے کافی تھے، اسی کے ساتھ ہی
جنوری2018 ایک باشرع صوم صلوٰۃ کے پاپند غریب شخص نے کہا کہ قاری صاحب میری بیٹی کی شادی ہے اس کے لیے چندہ جمع کروا دیں، ان صاحب کی دینی محبت اور پرہیز گاری کو تقریباً آٹھ سال سے واقف ہوں، لیکن ان کو کیا جواب دوں، دل پر چوٹ لگتی ہے کہ ہمارے سماج میں یہ نکاح جیسی عظیم الشان سنت کو لوگوں نے کس قدر مصیبت بنا دیا، کہ نکاح کرنا اتنا مشکل ہو گیا ہے لوگ بھیک مانگنے چندہ جمع پر مجبور ہو گئے ہیں، سود کے پیسوں کا استعمال کیا جاتا ہے، ایک صاحب جوگیشوری ممبئی میں مجھ سے معلوم کر رہے تھے، کہ ہمارے رشتہ دار میں ایک غریب شخص کی شادی ہے، کیا میں اسے سود کی رقم دے سکتا ہوں؟ میں نے سوچا کہ یا اللہ یہ ہمارے مسلمانوں کی آنکھوں سے حرص و ہوس کا عینک کب اترے گا، کہ یہ لوگ کب جہیز جیسی برائی ،اور شادی میں در آئی رسم و رواج، کی بلا کو محسوس کریں گے، کاش کہ باراتیوں کو احساس ہو جاتا کہ شادی کے لذیذ کھانے کا بندوبست کس رقم سے کیا جا رہا ہے، اب تک ہمارے سماج میں جہیز بارات پر زیادہ اخراجات ہو رہے تھے لیکن اب منگنی کے وقت ہی لاکھ پجاس ہزار روپے کے خرچ آجاتے ہیں، ہمارے یہاں یوپی میں اب نقد رقوم کا مطالبہ منگنی کے وقت ہی لڑکے والوں کی طرف سے کیا جاتا ہے، اور جہیز میں غریب شخص کو بھی دو پہیہ گاڑی دینا ضروری ہے، اگر کسی لڑکی والے نے نہیں دیا تو پڑھے لکھے لوگ بھی ناراض ہو جاتے ہیں، دین داری کے پیرہن زیب تن کرنے والے کھل کر گاڑی کی فرمائش نہیں کرتے ہیں لیکن سسرال جانا ترک کرکے احتجاج ضرور کرتے ہیں، کہ فلاں شخص کو گاڑی ملی ہے ہم کیسے آئیں راستہ طویل ہے سواری کا معقول انتظام نہیں ہے، والدین بھی اپنے بیٹے کی طرف داری میں گاڑی یا اس کی قیمت کا مطالبہ کسی نہ کسی بہانے سے کرتے رہتے ہیں،
نکاح سادگی سے نہیں ہو رہا ہے ؟ کیا سادگی سے نکاح ہونا ممکن نہیں ہے؟ بنیادی باتوں پر غوروخوض کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ لڑکا لڑکی بلوغت کی عمر تک پہنچ جاتے ہیں تو سب سے پہلے جو متفکر نظر آتے ہیں وہ لڑکی کے والدین ہی ہوتے ہیں، نکاح کی جستجو میں لڑکی کے والدین ہی پریشان ہوتے ہیں اور لوگوں کی منت و سماجت کرتے ہیں، کہ کہیں بیٹی کے لئے رشتہ بتائیں، اس کے برعکس لڑکے والے بے فکر رہتے ہیں، لڑکے کے عمر پچیس سال سے اٹھائیس تیس بھی ہو جائے کیا فرق پڑتا ہے، سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کا انتظار رہتا ہے، منگنی میں لاکھ پچاس ہزار اور شادی کے جہیز میں گاڑی، کولر، فریج، واشنگ مشین، مزید سو دو سو باراتیوں کا انتظام، یہ سب آرزو لیکر لڑکے والے اپنے گھروں میں مطمئن ہو کر بیٹھے رہتے ہیں، کہ آئے کوئی مجبور پریشان لڑکی والا تو سودا طے کریں،ظاہر سی بات ہے کہ نکاح جیسے مقدس رشتہ کے لیے لڑکی والے مجبور ہیں، پورا اختیار لڑکے والوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے جیسے وہ چاہیں نکاح کے فرائض کو انجام دے سکتے ہیں، چاہیں تو سادگی سے کریں چاہیں تو لڑکی والوں کو تکلیف میں مبتلا کرکے کریں،
بنیادی باتوں کو سامنے رکھ کر جو نتیجہ اخذ کیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ تمام مسلمان خصوصاً یوپی بہار کے، اپنے گھروں سے سادگی کے ساتھ نکاح کی شروعات کریں ایسے نیک طبیعت کے مسلمان بھی آٹے میں نمک کے برابر موجود ہیں جو سادگی کے ساتھ اپنے فرزندوں کا نکاح کر دیتے ہیں، ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، قربانی تو دینی پڑے گی،
کسی نہ کسی کو سادگی کے ساتھ نکاح کی شروعات کرنی پڑے گی، اگر ہر شخص یہی سوچے گا کہ لڑکی میں خرچ کیا ہوں تو لڑکے میں وصول کروں گا، اس سے برائی کا سلسلہ دراز ہی ہوتا جائے گا،
اخیر میں بندہ عاصی کی یہ بات یاد رہے!!
اگر ہمارے اندر تبدیلی نہیں آئی اور نکاح شادی بیاہ میں فضول خرچی، ہندوانہ رسم و رواج ادا کرتے رہے ، تو اس برائی کا خاتمہ نا ممکن ہوجائے گا ، جس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتیں گی،جو قومِ مسلم کی بیٹیوں کے حق میں مضرت رسائی کا سبب تو بن سکتا ہے لیکن اشکوں کا مداوا نہیں کر سکتا ہے،

عبدالرّحمٰن الخبیرقاسمی بستوی

نزیل:(مہمان خانہ)جامعہ انعام العلوم مالیگاؤں مہارشٹر

1 فروری 2019 بوقت شب 01:15 am

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading