
نئی دہلی: مدھیہ پردیش پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں اندور سے گرفتار کیے گیے اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت فراہم کی گئی ہے۔ منور فاروقی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے انہیں عبوری ضمانت دے دی۔ سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں منور فاروقی کی ضمانت کی مخالفت کرنے کے سلسلہ میں مدھیہ پردیش پولیس کو نوٹس بھی جاری کیا ہے۔
منور فاروقی کی درخواست ضمانت پر جسٹس روہنگٹن فالی ناریمن اور بی آئی گاوئی کی بنچ نے فیصلہ سنایا۔ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے معاملہ میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ منور فاروقی نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے 28 جنوری کو سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے منور فاروقی کی درخواست ضمانت نامنظور کرتے وقت کہا تھا کہ ضبط کا گیا مواد اور گواہوں کے بیان کے علاوہ معاملہ میں چل رہی جانچ کو مد نظر رکھتے ہوئے ملزم کی ضمانت منظور کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔