ڈاکٹر نریندر دابھولکر اور دیویندر فڑنویس میں زمین و آسمان کا بعد
دونوں کا موازنہ غیر مناسب، ان کے فکر اور وراثت مختلف ہیں: ہرش وردھن سپکال
سپریہ سولے کا بیان گمراہ کن اور اشتعال انگیز، فوری طور پر واپس لیا جائے
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی رکن پارلیمنٹ سپریہ سولے کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر نریندر دابھولکر اور دیوندر فڑنویس کا موازنہ کسی طور ممکن ہی، کیونکہ دونوں میں زمین و آسمان کا بعد ہے اور ان کی فکر، نظریہ اور وراثت ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ انہوں نے سپریہ سولے کے بیان کو گمراہ کن اور عوامی جذبات کو بھڑکانے والا قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
سپکال نے کہا کہ ڈاکٹر نریندر دابھولکر نے اپنی پوری زندگی توہم پرستی کے خاتمے اور سماج کو بیدار کرنے کے لیے وقف کر دی تھی اور اسی جدوجہد کے دوران انہوں نے اپنی جان بھی قربان کی۔ انہوں نے کہا کہ دابھولکر کی وراثت سچائی، عدم تشدد، توہم پرستی کے خاتمے اور سماجی اصلاحات پر مبنی ہے، جو چھترپتی شیواجی مہاراج، شاہو مہاراج، جیوتی با پھلے اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی فکر سے جڑی ہوئی ہے، اور اسی تسلسل کو آگے بڑھاتی ہے۔ اس کے برعکس دیویندر فڑنویس کا طرزِ عمل توہم پرستی کو فروغ دینے، ترقی پسند خیالات کو کمزور کرنے اور رجعت پسند سوچ کو بڑھاوا دینے والا ہے۔ سپکال کے مطابق فڑنویس کی سیاست ایسی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے جو سماج کو پیچھے کی طرف لے جانے والی ہے اور بدعنوان عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہے، اس لیے دونوں شخصیات کو ایک ہی تناظر میں دیکھنا سراسر غلط ہے۔
سپکال نے مزید کہا کہ ڈاکٹر دابھولکر ان کے لیے ذاتی طور پر بھی انتہائی قریب تھے اور وہ توہم پرستی و اندھی عقیدت کے خاتمے کے قانون کی مسودہ کمیٹی کے کام سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے سپریہ سولے کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے والد شردپوار کی ترقی پسند فکر اور سینئر لیڈر این ڈی پاٹل کی نظریاتی وراثت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سپریہ سولے ایک ایسے موازنے کی کوشش کر رہی ہیں جو حقیقت کے منافی ہے اور جس سے عوام میں غلط پیغام جا رہا ہے۔ سپکال نے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیان پر وضاحت پیش کریں اور اسے فوری طور پر واپس لیں تاکہ غیر ضروری تنازع ختم ہو سکے۔سپکال نے کہا کہ نظریاتی اور سماجی سطح پر دونوں شخصیات کے درمیان بنیادی فرق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس طرح کے بیانات سے عوامی سطح پر غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
MPCC Urdu News 26 March 26.docx