اورنگ آباد: 6ستمبر (ورق تازہ نیوز) ایم آئی ایم کے مہاراشٹر پردیش صدر اور ایم پی امتیاز جلیل نے آج اعلان کیاکہ اُنکی پارٹی ونچت بہوجن اگھاڑی سے انتخابی معاہدہ ختم کردیا ہے ۔ اور اکتوبر 2019ءمیں ہونے والے اسمبلی چناو میں اپنے بل بوتے پر الیکشن لڑے گی ۔
یہ خبر ونچت اگھاڑی کے ٹکٹ کی دوڑ میں شامل خواہشمند امیدواری پر بجلی بن کر گری ہے ۔ وہیں عوام اگھاڑ ی کے صدر پرکاش امبیڈکر جی سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا اب بھی مہاراشٹرکا آئندہ وزیراعلیٰ ونچت اگھاڑی کاہی ہوگا؟ پرکاش امبیڈکر نے ممبئی میں اخبار نویسیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بروز جمعرات 5 ستمبر کودعویٰ کیاتھا کہ مہاراشٹر کا نیا وزیراعلیٰ ونچت اگھاڑی کا ہوگا ۔
کیونکہ چند روزقبل ریاست کے زعفران وزیراعلی دیویندر پھڑنویس نے ایک جلسہ عام میں کہا تھا کہ الیکشن بعد ریاستی قانون ساز اسمبلی میں اپوزشن لیڈر ونچت اگھاڑی کا ہوگا ۔ شاید یہ بیان کانگریس اور راشٹروادی کوچڑانے کےلئے دیاگیا ہوگا ۔ جمعہ کو ایم آئی ایم پردیش صدر امتیاز جلیل نے اورنگ آباد میں کہا کہ سیٹوں کی تقسیم پر ونچت اگھاڑی کی جانب سے ان کی پارٹی کا احترام نہیں کیا گیا ۔ 288 سیٹوں میں سے صرف 8 سیٹیں ایم آئی ایم کوچھوڑی گئی تھیں اسلئے ان کی پارٹی نے ونچت اگھاڑی سے باہرنکلنے کافیصلہ کیا ہے اوراپنے بل بوتے پر الیکشن لڑے گی ۔
ونچت اگھاڑی کے قائد نے ایم آئی ایم کو اورنگ آباد سنٹرل حلقہ اسمبلی کی سیٹ بھی نہیں چھوڑی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی پارٹی کے لیڈر ڈاکٹرغفار قادری نے بالاصاحب سے کئی سنجیدہ میٹنگیں کیں ۔آخری میٹنگ 5 ستمبر کو پونے میں ہوئی تھی۔ اس کے باوجود بالا صاحب نے اسدالدین اویسی کوایک ای میل روانہ کیاتھا جس میں ایم آئی ایم کو صرف آٹھ سیٹیں چھوڑنے کی بات کہی تھی ۔
واضح ہو کہ 2014کے اسمبلی نتخابات میں ایم آئی ایم نے ریاست میں جملہ 24 حلقوں سے امیدوار کھڑے کئے تھے جن میں دو امیدوار اورنگ آباداور بائیکلہ (ممبئی) سے کامیاب ہوئے تھے ۔باقی امیدواروں نے دوسری اور تیسری پوزشن حاصل کی تھی ۔ اورنگ آباد سے خود امتیاز جلیل اور بائیکلہ سے وارث پٹھان ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے ۔ آج ریاست میں تقریبا 150 کارپوریٹرس اورمیونسپل کونسلر ہیں ۔ اورنگ آباد میں ایم آئی ایم کے 26 میونسپل کارپوریٹرس ہیں ۔ ایم آئی ایم ذرائع سے موصولہ باوثوق اطلاع کے مطابق ایم آئی ایم نے اور پھر 50 کردی گئی تھی لیکن بالا صاحب 8سیٹوں سے زائد دینے تیار نہیں تھے ۔ ایسا لگتا ہے کہ بالاصاحب کانگریس اور راشٹروادی کانگریس کے ساتھ انتخابی اتحاد کرنے کےلئے کوشاں ہیں۔