کولہاپور:( راست)14 جولائی کو وشال گڑھ، ضلع کولہاپور میں ہونے والے تشدد کے واقعے پر کل جماعتی وفاق مسلم نمائندہ کونسل نے مہاراشٹر حکومت اور پولیس انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ کونسل کے وفد، جس میں جنرل سیکرٹری معراج صدیقی اور یاسر صدیقی شامل تھے، نے 21 جولائی کو وشال گڑھ کا دورہ کیا اور اس واقعے کی حقیقت اور پس پردہ سیاست کو سمجھنے کی کوشش کی۔
کونسل کے مطابق، وشال گڑھ کا یہ فساد دراصل مہاراشٹر حکومت کی سازش اور پولیس کی خاموشی کا نتیجہ تھا۔ وفد کا کہنا ہے کہ وشال گڑھ قلعہ کی مسجد اور مزار گزشتہ ڈیڑھ سال سے سوشل میڈیا پر نشانے پر تھی، اور وہاں کی گندگی اور غیر قانونی قبضوں کو ہٹانے کے مطالبات بھی کیے جا رہے تھے۔ ہندو تنظیموں نے اس مقام پر "وشال گڑھ مکتی سنگرام” کے نام سے تحریک شروع کی، جس کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات عام ہو گئے تھے۔
کونسل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ کولہاپور کے ایم پی شاہو مہاراج کے بیٹے سنبھاجی راجے نے 13 جولائی کو لوگوں کو وشال گڑھ میں جمع ہونے کی دعوت دی، اور 14 جولائی کو وشال گڑھ قلعہ کے قریب ہزاروں افراد جمع ہوئے۔ اس دوران گجاپور گاؤں میں بھی 50 سے 70 افراد موجود تھے، جنہوں نے مسجد اور مسلم گھروں پر حملہ کیا۔
کل جماعتی وفاق مسلم نمائندہ کونسل کے وفد نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ پولیس کی موجودگی میں ہوا، اور اس دوران کولہاپور کے ایس پی مہندرا پنڈت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ وفد نے الزام لگایا کہ یہ پوری سازش سنبھاجی راجے کی قیادت میں کی گئی تھی، اور اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
کونسل نے حکومت سے مندرجہ ذیل مطالبات کیے ہیں:
1. گجاپور پر حملہ کرنے والے افراد کی شناخت کی جائے اور ان پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔
2. ایس پی مہندرا پنڈت کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔
3. حکومت اس حملے کو دہشت گردی قرار دے اور متاثرہ افراد کو مالی امداد فراہم کرے۔
4. سنبھاجی راجے کو گرفتار کیا جائے اور اس سازش کو بے نقاب کیا جائے۔
کل جماعتی وفاق مسلم نمائندہ کونسل نے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور پولیس کو جوابدہ ہونا چاہیے، اور اس ظلم و ناانصافی کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے.