ملکی شہری عدالت کے فیصلے کا احترام کریں ،کسی کے مذہبی جذبات کوٹھیس نہ پہونچے. میڈیا سوالات میں الجھاتا ہے، مسلم خود رام مندر بنانے میں تعاون کریں گے: اندریش کمار
لکھنؤ۔۸؍نومبر: ایودھیا تنازعہ معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اگلے ہفتے آنے کے امکانات کے درمیان ہندو ،عیسائی اور مسلم مذہبی رہنماؤں نے سماج کے تمام طبقوں سے اس فیصلے کا احترام کرنے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔اس کے ساتھ ہی مسلسل پولیس انتظامیہ بھی لوگوں کو افواہوں سے بچنے اور آگاہ رہنے کا مشورہ دے رہی ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکے رکن عاملہ مولاناخالد رشیدفرنگی محلی نے جمعہ کوکہاہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ جلد آنے والا ہے اور جیسا کہ ہم شروع سے ہی آئین کے دائرے میں رہتے آئے ہیں، لہٰذاہم سب کو ایسا کوئی بھی کام نہیں کرناچاہیے جس سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔انہوں نے کہا کہ ایودھیا کیس انتہائی حساس ہے اور نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کی نظریں اس بارے میں آنے والے فیصلے پرٹکی ہیں۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس کے کسی بھی فیصلے کا مکمل احترام کریں۔
مولانا خالد نے کہا کہ مسلم کمیونٹی سے اپیل ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اورعدلیہ پر اعتماد کو برقراررکھیں۔اس دوران آل انڈیاشیعہ پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانایعسوب عباس نے کہاہے کہ ملک کے تمام مسلمان آئین اور عدلیہ میں یقین رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسلم رہنما شروع سے ہی کہتے آئے ہیں کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا اسے وہ قبول کریں گے۔انہوں نے کہا کہ فیصلے والے دن اور اس کے بعد نہ تو مسلمان اللہ ہو اکبر کے اور نہ ہی ہندوجے شری رام کے نعرے لگائیں تاکہ ماحول پرامن بنا رہ سکے۔عباس نے کہاہے کہ لوگوں کو ترقی اور عوام سے منسلک دوسرے مسائل کے بارے میں بات کرنی چاہیے اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے والی تمام باتوں سے دوررہناچاہیے۔لکھنؤکے ہنومان مندر کے پروہت سرویش شکلا نے کہا کہ وہ معاشرے کے تمام طبقات سے صرف یہ اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کریں۔لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایودھیا کیس میں جوبھی فیصلہ ہوگا، ملک اس کھلے دل سے قبول کرے گا۔فادر ڈونلڈ ڈسوزا نے کہاہے کہ قانون سب کے لیے برابرہے لہٰذاسب کو عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔لکھنؤ کے کیتھولک چانسلر فادر ڈونلڈ ڈسوزا نے کہا کہ ہم جمہوری ملک میں رہتے ہیں اور یہاں قانون سب کے لیے برابرہے لہٰذاسب کوعدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاہے کہ اسی کوجمہوریت کہتے ہیں۔بتا دیں کہ ایودھیا میں متنازع مقام کی ملکیت کو لے کر چل رہے مقدمے میں سماعت گزشتہ ماہ مکمل ہوچکی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ آئندہ ہفتے کے دوران اس معاملے میں فیصلہ آ جائے گا۔بتا دیں کہ ایسی امکان ہے کہ سپریم کورٹ ایودھیا میں رام جنم بھومی بابری مسجد زمین تنازعہ معاملے پر اپنا فیصلہ 17 نومبر سے پہلے سناسکتاہے۔ 17 نومبر کو چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی مدت ختم ہورہی ہے۔ ان کے بعداے بوبڑے اگلے چیف جسٹس ہوں گے۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے لیڈر اورآرایس ایس کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ کے سربراہ اندریش کمار نے آج کہاہے کہ یہ پورے ملک کے لیے امتحان کی گھڑی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ یہ میڈیا ہے جو سوالات میں الجھاتاہے۔ مسلم خود مندر بنانے کے لیے تعاون دینے کی بات کر رہے ہیں۔ اندریش کمار نے کہاہے کہ ہم تمام مسلم رہنماؤں سے مل رہے ہیں۔ملک بھرمیں مسلم دانشور لوگوں سے میٹنگ کر رہے ہیں۔ہم سب امن بنانے کی اپیل کر رہے ہیں۔مسلم بھائی بھی ہمیں تعاون کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے صرف کیڈر سے نہیں بلکہ ملک کے 130کروڑعوام سے امن برقرار رکھنے کے لیے کہاہے۔ یہ دنیا کو نئے بھارت کو ظاہر کرنے کا وقت ہے۔