میں جب تک وزیرِ ریلوے ہوں، کوئی ٹرین رابطہ بحال نہیں ہو گا: شیخ رشید

جمعے کے روز پاکستانی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے اعلان کیا کہ وہ تھار ایکسپریس بھی بند کر رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے سمجھوتا ایکسپریس کی بندش کا بھی اعلان کیا تھا۔

جمعے کے روز شیخ رشید احمد نے بتایا کہ وہ پاکستان بھارت کے لیے چلنے والی دوسری اور آخری ٹرین سروس بھی بند کر رہا ہے۔ بھارت نے پیر کو جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی اور شیخ رشید کا یہ اعلان اس صورت حال پر پاکستانی ردعمل کا حصہ ہے۔

جمعے کے روز میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ”ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تھار ایکسپریس بھی بند کر دی جائے۔‘‘ یہ بات اہم ہے کہ پاکستانی شہر کھوکھراپار اور بھارتی علاقے موناباؤ کے درمیان ہفتہ وار بنیادوں پر تھارایکسپریس چلتی ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا، ”جب تک میں وزیرِ ریلوے ہوں، پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹرین رابطہ بحال نہیں ہو گا۔‘‘

ایک روز قبل شیخ رشید احمد نے اعلان کیا تھا کہ وہ سن 1976 سے جاری سمجھوتا ٹرین سروس بند کر رہے ہیں۔ ٹرین سروس کی بندش اسلام آباد حکومت کی جانب سے بھارت کے خلاف اٹھائے گئے متعدد دیگر اقدامات میں سے ایک ہے۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، مگر بھارت کو کشمیر کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدام پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے پاکستانی اقدامات کو ‘یک طرفہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی حکومت پاکستان سے ان فیصلوں پر نظرثانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ ”پاکستان نے بھارت سے مشاورت کے بغیر یہ اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ ہمارا خیال ہے کہ پاکستان جو بھی کر رہا ہے وہ دوطرفہ تعلقات کے لیے خطرناک ہے۔‘‘

بھارت کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کا ‘اندرونی معاملہ‘ ہے اور پاکستان کو اس میں مداخلت سے اجتناب برتنا چاہیے۔ بھارتی بیان میں کہا گیا ہے، ”وقت ہے کہ پاکستان حقیقت کو تسلیم کرے اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔‘‘

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading