مہاراشٹر کے کسانوں کو دیوالی سے قبل 5000 روپے کی مالی امداد، خشک سالی سے متاثرہ مزید 40 تعلقوں کا اعلان،فیس معافی کانیا جی آر جاری

چار بڑے فیصلوں سے کسانوں کو راحت، ربیع کے موسم میں چارے کی سرکاری خریداری اور ضرورت کے مطابق ٹینکروں کی فراہمی کا فیصلہ

ممبئی:14۔اکتوبر۔( ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر میں خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو راحت پہنچانے کے لیے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے دیوالی سے قبل کسانوں کو 5000 روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومت نے مزید 40 تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں شامل کرنے، ربیع کے موسم میں چارے کی فصل اگانے والے کسانوں سے سرکاری ضمانتی قیمت پر چارہ خریدنے اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں ضرورت کے مطابق پانی کے ٹینکر فراہم کرنے جیسے اہم فیصلے کیے ہیں۔ حکومت کے ان اعلانات سے خشک سالی کی مار جھیل رہے کسانوں کو بڑی راحت ملنے کی امید ہے۔

وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کابینہ اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے ان فیصلوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں خشک سالی کی سنگین صورتحال کے پیش نظر پہلے ہی 265 تعلقوں میں خشک سالی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بعض علاقوں سے شکایات موصول ہونے کے بعد صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔

حکومت نے ٹرگر ون اور ٹرگر ٹو کے تحت خشک سالی کی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے کے بعد اب مجموعی طور پر 305 تعلقوں میں خشک سالی کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح پہلے سے اعلان کردہ 265 تعلقوں کے علاوہ مزید 40 تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے کسانوں کو حکومت کی جانب سے 12 طرح کی رعایتیں فراہم کی جائیں گی، تاکہ انہیں موجودہ مشکل حالات میں معاشی اور زرعی سطح پر راحت مل سکے۔

ربیع کے موسم میں چارے کی سرکاری خریداری

حکومت نے کسانوں کے مویشیوں کے لیے چارے کی دستیابی کو یقینی بنانے کی غرض سے بھی اہم فیصلہ کیا ہے۔ ربیع کے موسم میں چارے کی کاشت کرنے یا چارے کی فصل اگانے والے کسانوں سے حکومت ضمانتی قیمت پر چارہ خریدے گی۔ اس اقدام سے کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت ملنے کے ساتھ خشک سالی کے دوران مویشیوں کے لیے چارے کی قلت دور کرنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔

خشک سالی والے علاقوں میں ضرورت کے مطابق ٹینکر

خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے حکومت نے ضرورت کے مطابق پانی کے ٹینکر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت متعلقہ علاقوں میں پانی کی طلب اور صورتحال کے مطابق ٹینکروں کا انتظام کیا جائے گا، تاکہ شہریوں اور دیہی آبادی کو پانی کی فراہمی میں دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دیوالی سے قبل 5000 روپے کی مالی امداد، خشک سالی سے متاثرہ تعلقوں کی تعداد میں اضافہ، چارے کی سرکاری خریداری اور پانی کے ٹینکروں کی فراہمی جیسے اعلانات کو ریاست کے کسانوں کے لیے اہم اقدامات قرار دیا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ان فیصلوں پر عمل درآمد سے خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو کتنی راحت ملتی ہے، اس پر اب سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading