مہاراشٹر کی تہذیب اور سماجی ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے بارا متی ضمنی انتخاب سے کانگریس کی دستبرداری: ہرش وردھن سپکال

مہاراشٹر کی تہذیب اور سماجی ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے بارامتی ضمنی انتخاب سے کانگریس کی دستبرداری: ہرش وردھن سپکال

بارامتی سے امیدوار واپس لینے کے باوجود کانگریس اپنے مؤقف پر قائم، 2029 میں بارامتی سے کانگریس کا ایم ایل اے ہوگا

ممبئی: بارامتی اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں کانگریس پارٹی نے اپنی امیدواری واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مہاراشٹر کی تہذیبی روایات اور سماجی ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پارٹی کا مؤقف انتخاب لڑنے کا تھا، تاہم مختلف سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کی اپیل کے بعد باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

گاندھی بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بارامتی ضمنی انتخاب لڑنا کانگریس کی واضح پالیسی تھی اور یہ فیصلہ نظریاتی بنیادوں پر درست تھا، لیکن مہاراشٹر کی ثقافت، باہمی ہم آہنگی اور شائستگی کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیڈروں نے رابطہ کر کے امیدواری واپس لینے کی درخواست کی، جس کے بعد پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور ریاستی لیڈروں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم اجیت پوار کا کانگریس سے طویل سیاسی تعلق رہا ہے، اسی پس منظر میں نائب وزیر اعلیٰ سنیترہ اجیت پوار نے بھی کانگریس سے امیدوار واپس لینے کی اپیل کی۔ اس کے علاوہ چھگن بھجبل، دھننجے منڈے سمیت دیگر لیڈروں نے بھی فون پر یہی درخواست کی، جبکہ نیشنلسٹ کانگریس کے متعدد نمائندوں نے گاندھی بھون پہنچ کر بھی یہی مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ روہت پوار، سپریہ سلے اور شرد پوار کی جانب سے بھی اسی نوعیت کی اپیل کی گئی تھی۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ سنیترہ اجیت پوار نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے سے بھی بات چیت کی، جس کے بعد پارٹی قیادت اور ریاستی ذمہ داران کے ساتھ مشاورت کر کے حتمی فیصلہ لیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بارامتی سے امیدوار واپس لینے کے باوجود کانگریس اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے، خاص طور پر اجیت پوار کے مبینہ حادثاتی انتقال کے معاملے کی مکمل جانچ کا مطالبہ برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے ساتھ نیشنلسٹ کانگریس کے اتحاد کی کانگریس مسلسل مخالفت کرتی رہے گی، کیونکہ اسے پارٹی اصولوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی فون کر کے بارامتی انتخاب کو غیر مقابلہ بنانے کی اپیل کی تھی اور مہاراشٹر کی ثقافت کا حوالہ دیا تھا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس اپیل کا پارٹی کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور کانگریس کا بی جے پی کے خلاف مؤقف برقرار رہے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امیدوار واپس لینے سے قبل پارٹی نے بارامتی کے کانگریس امیدوار ایڈوکیٹ آکاش مورے، دیگر خواہشمند امیدواروں اور کارکنان سے ویڈیو کال کے ذریعے بات چیت کر کے ان کی رائے حاصل کی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ کانگریس قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ وقتی طور پر قدم پیچھے لیا گیا ہے، لیکن مستقبل میں بارامتی میں پارٹی کو مضبوط کیا جائے گا اور 2029 کے انتخابات میں کانگریس اپنی نمائندگی قائم کرے گی۔

چاندیولی اسمبلی انتخاب میں ممبئی ہائی کورٹ کا ای وی ایم کی جانچ کا حکم

یہ فیصلہ تاریخی ہے، 16 ؍اور 17 ؍اپریل کو ممبئی میں ڈائگناسٹک چیک ہوگا: نسیم خان

ممبئی: ملک کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار ممبئی ہائی کورٹ نے ای وی ایم مشینوں کی جانچ اور چھان بین کی اجازت دی ہے۔ یہ حکم جسٹس سوم شیکھر سندریسن نے جاری کیا۔ اس معاملے میں درخواست گزار کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سابق وزیر نسیم خان ہیں، جبکہ مدعا علیہ دلیپ لانڈے ہیں۔

واضح رہے کہ 2024 کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں شندے سینا کے امیدوار دلیپ لانڈے نے ممبئی مضافاتی ضلع کے چاندیولی اسمبلی حلقے سے نسیم خان کو شکست دی تھی، جس کے بعد نسیم خان نے انتخابی نتائج کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔

اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ ہندوستان کی انتخابی تاریخ میں اب تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے امیدواروں اور افسران کی موجودگی میں ای وی ایم کی جانچ کی اجازت دی ہو۔ انہوں نے اس عدالتی حکم کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اپریل 2024 کے فیصلے کے مطابق نتائج کے اعلان کے بعد ہر اسمبلی حلقے میں پانچ فیصد ای وی ایم مشینوں کی تکنیکی جانچ کی جا سکتی ہے، جس میں کنٹرول یونٹ، بیلٹ یونٹ اور وی وی پی اے ٹی شامل ہیں اور ان کی برنٹ میموری یا مائیکرو کنٹرولر کی جانچ ماہر انجینئروں کی ٹیم کے ذریعے کی جائے گی۔

ممبئی مضافاتی ضلع کے ڈپٹی ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے نسیم خان کو بھیجے گئے خط کے مطابق ای وی ایم بنانے والی کمپنی بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ، بنگلور کے ذریعے 16 اور 17 اپریل کو ممبئی میں صرف ڈائگناسٹک چیک کی اجازت دی گئی ہے۔ کانگریس پارٹی نے اپنے امیدواروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں ای وی ایم اور ووٹر ویری فائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل (وی وی پی اے ٹی) یونٹس کی جانچ کرائیں۔ کانگریس کی قیادت میں قائم انڈیا اپوزیشن اتحاد کے تقریباً دو درجن امیدواروں نے ای وی ایم کی شفافیت اور اعتبار کے حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔

MPCC Urdu News 9 April 26.docx

Letter regarding checking on 16 and 17 April.pdf

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading