نئی دہلی:15/اپریل: تبلیغی جماعت کے امیر مولاناسعد کاندھلوی کے خلاف غیر ارادتاً قتل کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔پولیس نے بدھ کو بتایا کہ تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شامل ہوئے لوگوں میں سے کچھ کی کو رونا وائرس سے موت ہو جانے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔پولیس نے یہ قدم مولاناسعدکے ذریعے کوارنٹائن کی مدت ختم کرنے کے بعد اٹھایا ہے۔ مولاناسعد کو آخری بار 28 مارچ کو دیکھا گیا تھا اور بعد میں ایک آڈیوپیغام کےتوسط سے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سیلف آئسولیشن میں ہیں۔
پولیس کے مطابق اس مہلک بیماری کو قابو کرنے کے لیے سماجی دوری سے متعلق مرکز ی حکومت کے احکامات کے بعد بھی مولانا سعد نے پچھلے مہینے نظام الدین مرکز میں اجتماع کا کیا تھا۔نظام الدین کے تھانہ انچارج کی شکایت پر 31 مارچ کو کرائم برانچ تھانے میں مولانا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
پولیس نے کہا کہ شروع میں اجتماع کے انعقاد کو لےکر ان کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا۔ایک پولیس افسر نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شامل کئی لوگوں کی کو رونا وائرس کی وجہ سے موت ہو جانے کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر میں آئی پی سی کی دفعہ 304 (غیر ارادتاً قتل ) کوشامل کیا گیا۔