ممتا حکومت کے دباؤ میں میرے کارخانے کو پولس نے بند کردیا’ سیکڑوں ورکرس بے روزگار : ایم آئی ایم بنگال کنوینر ضمیرالحسن

کلکتہ ،18جنوری (یواین آئی) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بنگال یونٹ کے کنوینر ضمیرالحسن جنہیں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنے کی وجہ سے کلکتہ پولس نے گرفتار کرلیا تھا اور 20 دن بعد 4جنوری کو رہائی ملی تھی نے آج کہا تھا کہ پولس نے غیر قانونی طریقے سے میرے کارخانے کو بند کردیا ہے ۔میری رہائی کے بعد ہی میرے کارخانے کو کھولا نہیں جارہا ہے اس کی وجہ سےفیکٹری میں کام کررہے 400افراد بے روزگا ہوگئے ہیں ۔

ضمیر الحسن نے ممتا حکومت پر الزام عاید کیا کہ آئی ایم آئی ایم کے ورکروں کو ڈرانے اور دھمکانے کیلئے یہ سب کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ جمہوری ملک میں کیا ہمیں احتجاج کرنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولس نے بغیر کسی وجہ بتائے مجھے گرفتار کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میری گرفتاری 16دسمبر کو رہائش گاہ سے کی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ میں سیاست سے وابستہ ہوں مگر میرے بیٹے غیرسیاسی ہیں اس کے باوجود ان کے خلاف بھی مقدمہ بنایا گیا ہے ۔

خیال رہے کہ ضمیرالحسن پیشے سے مشہور چمڑے کےتاجر ہیں اور گزشتہ کئی دہائیوں سے ’’کلکتہ لیدر کلب ہاؤس‘‘ کے نام سے فیکٹری چلاتے ہیں ۔فیکٹری میں 400افراد کام کرتے ہیں جب کہ بالواسطہ سیکڑوں افراد ان کی فیکٹری سے جڑے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی بھی مجرمانہ کیس نہیں ہے مگر بنگال کے دیہی علاقوں میں اسدالدین اویسی کی مقبولیت کی وجہ سے ممتا بنرجی خوف زدہ ہیں اسی وجہ سے ایم آئی ایم لیڈروں اور اس کے حامیوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ضمیر الحسن نے الزام عاید کیا کہ ان پر ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کا دباؤبنایاجارہا تھا ۔مگر جب وہ نہیں جھکے تو انہیں پریشان کرنے کی یہ تدبیر نکالی گئی ہے ۔خیال رہے کہ ضمیرالحسن کے خلاف دفعہ 341۔283-143اور 353جیسے دفعات لگائے گے ہیں ۔ممتابنرجی الزام عاید کرتی رہی ہیں کہ حیدرآباد کی پارٹی بنگال میں فسادکراکر بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرہی ہے۔وزیر اعلیٰ کے بیان کے بعد ہی کئی لیڈروں کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔حسن نے کہا کہ ممتا کا الزام بے بنیاد ہے ۔وہ مسلمانوں کو ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش کررہی ہیں اور بتاناچاہتی ہیں کہ مسلمانوں کو ان کے رحم و کرم پر رہنا ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم تو سیکولر ہیں اور سبھوں کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ بھی اتحاد کرسکتے ہیں ۔مگر ممتا سمجھتی ہیں کہ مسلمان ان کے بغیر جی نہیں سکتے ہیں ۔مگر یہ ان کی بھول ہے ۔مگر اپنی لڑائی خود لڑررہاہے ۔برادران وطن کی بھی حمایت حاصل ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading