درحقیقت، ممبئی پولیس کی اطلاع کے بعد، ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF) نے 18 جنوری کو درگ اسٹیشن سے آکاش کنوجیا کو حراست میں لیا تھا۔ 19 جنوری کی صبح، ممبئی پولیس نے بنگلہ دیشی شہری شریف الاسلام شہزاد محمد روہیلا امین فقیر عرف وجے داس کو ٹھانے سے گرفتار کیا جس کے بعد درگ آر پی ایف نے کنوجیہ کو رہا کیا۔واضح رہےکہ 15 جنوری کی رات ممبئی میں اداکار سیف علی خان کی رہائش گاہ کو لوٹنے کی کوشش کے دوران ایک شخص نے ان پر چاقو سے کئی وار کیے تھے۔
خان کی سرجری ہوئی اور بعد میں انہیں چھٹی دے دی گئی۔آکاش کنوجیا نے بتایا، "میرے خاندان کو صدمہ پہنچا جب میڈیا نے میری تصویریں دکھانا شروع کیں اور دعویٰ کیا کہ میں اس کیس کا مرکزی ملزم ہوں۔ ممبئی پولیس کی ایک غلطی نے میری زندگی برباد کر دی۔ وہ یہ محسوس کرنے میں ناکام رہے کہ میری مونچھیں ہیں اور اداکار کی عمارت میں سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے شخص کی مونچھیں نہیں تھیں۔نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق کنوجیانے دعویٰ کیا،
"واقعے کے بعد، مجھے پولیس کی طرف سے کال آئی اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں کہاں ہوں، جب میں نے انہیں بتایا کہ میں گھر پر ہوں، تو کال منقطع ہوگئی۔ میں اپنی ہونے والی دلہن سے ملنے جا رہا تھا۔ جب مجھے درگ میں حراست میں لیا گیا اور پھر رائے پور لے جایا گیا تو وہاں پہنچی ممبئی پولیس کی ٹیم نے بھی مجھے مارا پیٹا۔‘‘آکاش کنوجیا نے بتایا کہ رہائی کے بعد ان کی والدہ نے انہیں گھر آنے کو کہا لیکن اس کے بعد سے ان کی زندگی انتشار کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب میں نے اپنے آجر کو فون کیا تو انہوں نے مجھے کام پر نہ آنے کا کہا، انہوں نے میری بات سننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد میری دادی نے مجھے بتایا کہ میری دلہن کے گھر والوں نے میری تحویل کے بعدسے انہوں نے شادی کی بات کرنے سے انکار کر دیا۔”