ممبئی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر آٹو ڈرائیور کا ‘بیگ لاکر کار وبار’ بند، روزانہ 30 ہزار کی کمائی پر پولیس کی روک

ممبئی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر آٹو ڈرائیور کا ‘بیگ لاکر کاروبار’ بند، روزانہ 30 ہزار کی کمائی پر پولیس کی روک

ممبئی، 12 جون (آفتاب شیخ)۔

ممبئی کے باندرہ کرلا کمپلیکس (BKC) میں واقع امریکی قونصلیٹ کے باہر بیگ رکھنے کی سہولت فراہم کرنے والے آٹو ڈرائیورز کے کاروبار پر پولیس نے پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک کارپوریٹ افسر نے سوشل میڈیا پر اس سہولت کی تعریف میں پوسٹ لکھی، جو خود آٹو ڈرائیور کے لیے مصیبت بن گئی۔

لینس کارٹ کمپنی کے پروڈکٹ ہیڈ، راہل روپانی، امریکی قونصل خانے کسی کام سے گئے تھے۔ چونکہ قونصلیٹ میں بیگ لے جانا ممنوع ہے، انہوں نے قونصل خانے کے باہر کھڑے ایک آٹو ڈرائیور کو بیگ تھما دیا۔ واپسی پر اسے 1000 روپے دیے اور لنکڈ اِن پر اس سہولت کی خوب تعریف کی۔ لیکن یہ پوسٹ ہی آٹو ڈرائیور کے لیے وبالِ جان بن گئی۔

تحقیقات میں معلوم ہوا کہ صرف یہی ایک آٹو ڈرائیور نہیں بلکہ قونصل خانے کے باہر ایسے 12 آٹو ڈرائیور روزانہ بیگ رکھنے کا کام کرتے تھے۔ اندازہ ہے کہ ایک آٹو ڈرائیور کی روزانہ آمدنی 20 سے 30 ہزار روپے تک پہنچ جاتی تھی، اور ماہانہ کمائی تقریباً 5 سے 8 لاکھ روپے تک ہو جاتی تھی۔

راہل روپانی نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ اسے "ہائیپر اسپیسفک مسئلے کا ماسٹرکلاس حل" کہا جا سکتا ہے۔ کوئی ڈگری نہیں، کوئی اسٹارٹ اپ پچ نہیں — صرف ایک جُگاڑ، ایک حل اور صارف کا اعتماد۔ لیکن سیکیورٹی ایجنسیوں کے نزدیک یہ ایک بڑا خطرہ تھا۔

بی کے سی پولیس اسٹیشن کے افسران کا کہنا ہے کہ امریکی قونصل خانہ ایک حساس علاقہ ہے اور بغیر سیکیورٹی جانچ کے اس طرح بیگ رکھوانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تمام آٹو ڈرائیوروں کو طلب کرکے سخت وارننگ دے دی گئی ہے کہ آئندہ ایسا نہ کیا جائے۔

پولیس کے مطابق کچھ آٹو ڈرائیوروں نے قونصل خانے کے اطراف دکانوں کو بھی عارضی لاکر کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ پولیس نے ان تمام سرگرمیوں پر روک لگا دی ہے۔

پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ویزا اپوائنٹمنٹ یا قونصل خانے کے دیگر کام کے لیے آنے والے افراد پہلے سے تیاری کریں اور بیگ یا الیکٹرانک اشیاء ساتھ نہ لائیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی یا سیکیورٹی خطرات سے بچا جا سکے۔

یہ واقعہ جہاں ایک جانب آٹو ڈرائیور کی جُگاڑو ذہانت کو سراہا گیا، وہیں سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی پر بھی سوال اٹھا دیے گئے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading