ممبئی میٹروپولیٹن خطے میں خواتین سرکاری ملازمین کے لیے ‘کم ا رلی–گو ارلی’ سہولت کا اعلان: سنیترہ اجیت پوار

ممبئی میٹروپولیٹن خطے میں خواتین سرکاری ملازمین کے لیے ‘کم ارلی–گو ارلی’ سہولت کا اعلان: سنیترہ اجیت پوار

خواتین کے احترام، مساوی مواقع اور تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ

ممبئی، 10 مارچ — مہاراشٹر کی نائب وزیر اعلیٰ سنیترہ اجیت پوار نے ممبئی میٹروپولیٹن خطے میں کام کرنے والی خواتین سرکاری ملازمین کے لیے “کم ارلی–گو ارلی” سہولت دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت خواتین کی مجموعی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور ایسا معاشرہ تشکیل دینا ضروری ہے جہاں خواتین کو عزت، مساوی مواقع اور مکمل تحفظ حاصل ہو۔

سنیترہ اجیت پوار بین الاقوامی یومِ خواتین کے موقع پر قانون ساز کونسل میں ہونے والی خصوصی بحث کا جواب دے رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس نئی سہولت کے تحت ممبئی میٹروپولیٹن خطے میں کام کرنے والی خواتین ملازمین صبح 9:15 سے 9:45 کے درمیان دفتر پہنچ کر اپنے کام کا آغاز کر سکیں گی۔ جتنے منٹ وہ جلدی کام شروع کریں گی اتنے ہی منٹ انہیں شام کو دفتر سے پہلے جانے کی اجازت دی جائے گی۔ اس طرح خواتین ملازمین کو زیادہ سے زیادہ 30 منٹ تک کی رعایت حاصل ہو سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے رش کے اوقات میں سفر کے دوران خواتین کو پیش آنے والی مشکلات میں کمی آئے گی اور انہیں بڑی حد تک سہولت حاصل ہوگی۔ انہوں نے قانون ساز کونسل میں اس موضوع پر اظہارِ خیال کرنے والے تمام ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے بااختیار بنانے کے حوالے سے کئی اہم تجاویز سامنے آئی ہیں اور حکومت ان تجاویز پر مثبت غور کر کے ضروری اقدامات کرے گی۔

خواتین کی سلامتی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سنیترہ اجیت پوار نے بتایا کہ لاپتہ بچوں کی تلاش کے لیے چلائے جا رہے “آپریشن مسکان” کے تحت جولائی 2015 سے فروری 2026 کے درمیان 14 مہمات چلائی گئیں جن کے ذریعے ریاست بھر میں 42,594 بچوں کا سراغ لگایا گیا۔ اسی طرح “آپریشن شودھ” کے تحت 5,066 خواتین اور 2,771 بچوں کو تلاش کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے تمام اضلاع میں “مسنگ سیل” فعال ہیں جبکہ خواتین سے متعلق معاملات کے حل کے لیے 51 “بھروسہ سیل” قائم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے خواتین کے معاشی استحکام کے لیے حکومت کی مختلف اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے “لاڈکی بہن”، “نمو مہلا سشکتیکرن”، “لیک لاڈکی”، “انّپورنا” اور “لکھپتی دیدی” جیسی اسکیموں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کو بازار فراہم کرنے کے لیے “امید مال”، “امید مارٹ” اور “مہالکشمی سرس” جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ان مصنوعات کو آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب کرایا گیا ہے۔

آنگن واڑی سیوکاؤں اور معاونین کے اعزازیہ اور بنیادی سہولیات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے 17,254 آنگن واڑی مراکز میں پینے کے پانی کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خواتین کی سلامتی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس، چرچ گیٹ اور بوریولی ریلوے اسٹیشنوں پر سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خواتین سرکاری ملازمین کے لیے 180 دن کی زچگی رخصت کی منظوری دی گئی ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ بغیر میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ایک سال تک نصف تنخواہ پر چھٹی بھی لے سکتی ہیں۔

سنیترہ اجیت پوار نے کہا کہ ریاست میں چوتھی خواتین پالیسی نافذ کی جا چکی ہے اور اس کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں خواتین کے تحفظ اور عزت کو یقینی بنانے کے لیے “آدیشکتی مہم” بھی چلائی جا رہی ہے جس کا مقصد کم عمری کی شادیوں کو روکنا، ظلم و ستم سے پاک دیہات قائم کرنا اور لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح کو کم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت خواتین کی صحت، تعلیم، ہنر مندی کی ترقی، خود امدادی گروپوں کو مضبوط بنانے اور خواتین کسانوں و مزدوروں کے لیے خصوصی اقدامات پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خواتین کا بااختیار ہونا صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی، ثقافتی اور ذہنی طور پر بھی اتنا ہی ضروری ہے، اور اس کے لیے ججابیائی، ساوتری بائی پھولے، اہلیابائی ہولکر اور مہارانی تارابائی جیسی عظیم شخصیات کے کاموں سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading