معصوم عاکفہ مہرین کوگاڑی سےکچل کر ہلاک کرنے والے پولیس سب انسپکٹر کے معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ نے جاری کیے نوٹس

اورنگ آباد، 8 اکتوبر ( یو این آئی) ایک معصوم لڑکی کو اپنی کار سے کچل کر فرار ہونے والے اورنگ آباد کے ایک پولیس سب انسپکٹر کے خلاف ضروری تفتیش نہ ہونے اور مبینہ طور پر اسے بچانے کے لیےتحیقیقات صحیح رخ میں نہ کرنے کے باعث، شہید عاکفہ مہرین کے والد نے ممبئی ہائیکورٹ میں ایک عرضی دے کر تحقیقات کو کسی اور تفتیشی ایجنسی کے حوالے کیے جانے کا مطالبہ کیا ، جس پر عدالت نے مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیے ہیں۔


تفصیلات کے مطابق ، عاکفہ مہرین کے والد محمدظہیر (ساکن عارف کالونی، اورنگ آباد) نے، ایڈوکیٹ سعید ایس شیخ کی معرفت دائر کی گئی فوجداری درخواست پر، بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے جسٹس ٹی وی نلاوڈے اور ایم جی سیولیکر نے، اورنگ آباد شہر سٹی چوک پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر سنتوش پاٹے کی نجی کار کی زد میں آکر کچلے جانے کے باعث ہلاک ہونے والی عاکفہ مہرین کے معاملے میں مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کیس کی اگلی سماعت چار ہفتوں کے بعد مقرر کی ہے۔


واضح رہے کہ22 اپریل 2019 کو اورنگ آباد میں، 11ویں جماعت میں تعلیم حاصل کررہی، 17 سالہ عاکفہ مہرین کو، ٹاؤن ہال فلائی اوور پل، جامعہ مسجد کے سامنے سب انسپکٹر سنتوش پاٹے نے اپنی نجی کار تیزرفتار سے چلاتے ہوئے کچل دیا تھا۔اور راہ فرار اختیارکی تھی۔


اس معاملے میں، ایڈوکیٹ سعید ایس شیخ نے عدالت کی توجہ اس جانب کررائی کہ ، 22.04.2019 کو سہ پہر 2 بجے کے قریب ، عاکفہ مہرین، عارف کالونی سے بھڑکل گیٹ اپنے موپیڈ اسکوٹی نمبر MH20 CE9288 پر جارہی تھی۔ اس وقت ، جامعہ مسجد کے سامنے سےسٹی چوک پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر سنتوش پاٹے نے اپنی نجی کار نمبر MH02CB2079 میں ٹاؤن ہال فلائی اوور کے پاس عاکفہ کی اسکوٹی کو پچھے سے ٹکر ماردی ، جس سے عاکفہ معمولی طور پر زخمیی ہو کر نیچے گر پڑی۔ وہاں موجود لوگ اس جانب دوڑے ، لوگوں کو کار کے قریب آتے ہوئے دیکھ کر، سب انسپکٹر پاٹے نے لاپرواہی سے اپنی کار عاکفہ کے سر اور جسم پر چڑھا دی ، جو سڑک پر زخمی حالت میں پڑی تھی ، اور موقع سے فرار ہوگیا۔ کار سے کچلے جانے کے باعث، دماغ میں شدید چوٹ لگنے کے سبب علاج کے دوران وہ 24 اپریل 2019 کی صبح اس نے آخری سانس لی تھی۔


عدالت میں دائر عرضی کے مطابق ، ابتدائی طور پر نامعلوم ملزمان کے خلاف سٹی چوک پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم ، تفتیش کے بعد ، سب انسپکٹر سنتوش پاٹے کی شناخت کی گئی ، جو اسی تھانے میں کام کر رہا تھا ، بعد ازاں اس کی کارکو ضبط کرلیا گیا تھا۔ تاہم ، کیس میں ضروری تفتیش نہ ہونے کی وجہ سے ، سب انسپکٹر پولیس سنتوش پاٹے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہئے اور تحقیقات کو کسی اور تفتیشی ایجنسی کے حوالے کیا جانا چاہئے۔اس طرح کی درخواست عدالت سے کی گئی جس پر عدالت نے مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت چار ہفتوں کے لئے مقرر کردی۔
عیاں رہے کہ، ذرائع کے مطابق، اس معاملے میں شروع سے ہی، خاطی پولس سب انسپکٹر کو بچانے کے لیے اس کے ساتھی افسران کوشش میں لگے رہے، عاکفہ کے والد نے بھی اس طرح کا الزام لگایا، نیز اس وقت ہندی ، اردو، اور انگریزی اخبارات میں بھی اسی طرح کی خبریں شایع ہوئی۔ ایک ہندی اخبار میں شائع خبر کے مطابق ،اس معاملے کے ثبوت مٹائے گئے اور اس خاطی پولیس افسر کو بچانے کی کوششیں کی گئی۔ واقعہ کے بعد اس کے چار پانچ ساتھی افسران پوسٹ مارٹم روم میں پہنچے تھے۔جہاں وہ اسے بچانےکی کوشش کرتے نظرآئےتھے ۔ اسی طرح حادثہ کی جگہ سے فرار ہونے کے بعد خاطی پولیس والے نے اس کی اطلاع اپنے ساتھی ایک لیڈی آفیسر کو دی تھی۔جو فوری موقعہ پر پہنچ گئی، اور وہاں پر موجود افراد کے پاس موبائل میں اس واقعہ کی ویڈیوز لینے سے منع کیا اور جنھوں نے لیا تھا انا سے زبردستی ڈیلٹ کرایا تھا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading