ممبئی، 30 جنوری (ایجنسیز) مہاراشٹر حکومت نے ممبئی ہائی کورٹ کو مطلع کیا کہ اس نے ٹرین میں سفر کے دوران طلباء کے ایک گروپ کی جانب سے ایک مسلم نوجوان کو دوران سفر جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنے والی شکایت فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) کو نوجوان کی جانب سے اعتراض کرنےپر تفشیش کو دوسرے پولیس اسٹیشن میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے "۔درخواست گزار آصف شیخ نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ جب وہ اپنے آبائی علاقے کنکاولی سے ممبئی میں اپنے گھر واپس آرہے تھے تو طلبہ کے ایک گروپ نے اس پر اس لئے حملہ کیا کہ وہ مسلمان ہے اور بعد میں اسے اور اس کے اہل خانہ کو ۔ جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیاگیا۔
شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ مرکزی وزیر نارائن رانے کے بیٹے اور مہاراشٹر کے کابینی وزیر نتیش رانے متعلقہ دن کنکاولی پولیس اسٹیشن آئے تھے، جب وہ (درخواست گزار) ایف آئی آر درج کرانے کے لیے اسٹیشن گئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نتیش نے پولس کو متاثر کیا۔سماعت کے دوران ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر پراجکتا شندے نے جسٹس ریوتی موہتے ڈیرے اور ڈاکٹر نیلا گوکھلے کی بنچ کو بتایا کہ ایف آئی آر کو کنکاولی پولیس اسٹیشن سے کدال پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ہے۔
اس پر، وکیل گوتم کنچن پورکر نے عرضی گزار آصف شیخ کی نمائندگی کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ریاست نے عدالت کے حکم کے بعد ہی ایف آئی آر کو منتقل کیا ہے، اس لئے عرضی گزار کو شک ہے کہ تحقیقات متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ نتیش کنکاولی سے موجودہ ایم ایل اے ہیں۔”لیکن اب انہوں نے ایف آئی آر کو کدال پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا ہے۔ یہ ان کے (نتیش) بھائی (نیلیش رانے) کا حلقہ ہے،” کنچن پورکر نے عدالت کو بتایا۔تاہم، جسٹس موہتے ڈیرے نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اچھا تو پھر ممبئی میں کیوں نہیں؟ کیا انہیں اسے ممبئی منتقل کر دینا چاہیے؟”اس پر کنچن پورکر نے کوئی جواب نہیں دیا اور اس طرح بنچ نے ایک حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے اس معاملے کی تحقیقات کو کنکاولی پولیس اسٹیشن سے کدال منتقل کر دیا ہے۔درخواست گزار کے مطابق، وہ ممبئی کے چیمبور میں اپنے گھر پہنچنے کے لیے کنکاولی سے پیسنجر ٹرین میں سوار ہوا تھا تاہم ان کا یہ سفر ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا، ایک لڑکی سمیت آٹھ کے قریب طالب علموں نے ٹرین میں افراتفری مچانا شروع کر دی اور شیخ کے یہ بتانے پر کہ وہ مسلمان ہے، شکایت کنندہ سے کہا گیا کہ طلباء، جو سبھی ہندو تھے، نے شیخ اور ان کے خاندان کے خلاف مذہبی گالیاں دینا شروع کر دیں اور انہیں ہراساں کیا۔
یہاں تک کہ انہوں نے خاندان کو "جئے شری رام” کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔ طالب علموں نے شیخ کے اہل خانہ کو مزید بتایا کہ وہ تمام لوگ، جو یہ مذہبی نعرہ نہیں لگاتے، انہیں ہندوستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے اور درحقیقت انہیں پاکستان میں جاکر آباد ہونا چاہیے، درخواست گزار نے الزام لگایا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ جسٹس موہتے ڈیرے کی قیادت والی بنچ نے ابتدائی طور پر درخواست گزار خاندان کو پولیس تحفظ فراہم کیا تھا۔ دسمبر میں بھی، ججز نے پولیس کو شیخ کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، جو ایک بار پھر ایک مذہبی تقریب میں شرکت کے لیے اپنے آبائی مقام کنکاولی جا رہے تھے۔
تاہم، 19 دسمبر کو کنچن پورکر نے ججز کو بتایا کہ ان کا مؤکل کنکاولی میں ایک مہلک "منصوبہ بند” حملے سے "بچ” گیا، جب وہ دودھ خریدنے کے لیے باہر گیا تھا۔ وکیل نے ججز کو بتایا کہ تحفظ کے واضح احکامات کے باوجود صرف ایک افسر اپنے موکل کو تقریباً 3 سے 5 گھنٹے تک ریلوے اسٹیشن سے ان کے گھر تک لے گیا۔ اور اسی دوران اس پر حملہ کیا گیا اور جب وہ شکایت درج کرانے گیا تو مقامی پولیس نے اس کا اندراج نہیں کیا۔
19 دسمبر کو ہوئی ایک سماعت میں، بنچ اس بات پر برہم ہو گیا تھا اور اس نے پولیس سے کہا تھا کہ اگر عرضی گزار کو کچھ ہوتا ہے تو پولیس ذمہ دار ہوگی۔
تاہم، جب کل اس معاملے کی ایک بار پھر سماعت ہوئی، تو ججز نے رائے دی کہ اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہے کہ تیز رفتار کار کا واقعہ درحقیقت درخواست گزار پر ایک ’’منصوبہ بند حملہ‘‘ تھا اور ایف آئی آر میں کہا کہ یہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا۔ بے ۔بنچ نے کہا کہ درخواست گزار ایف آئی آر سے متعلق کسی بھی شخص کے ذریعہ حملہ آور ہونے کے اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے کوئی مواد دکھانے میں ناکام رہا۔اس لیے اس نے مذکورہ درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔
مزید برآں، ججز نے شندے کی طرف سے کی گئی عرضداشت کو نوٹ کیا کہ ممبئی پولیس کی تازہ ترین "خطرے کا تصور” رپورٹ "منفی” تھی جس کا مطلب یہ ہوگا کہ درخواست گزار کو اب پولیس تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔ان تمام حقائق کا نوٹس لیتے ہوئے بنچ نے درخواست کی سماعت بند کردی