لوک سبھا انتخاب: الیکشن کمیشن نے قائم کیا ریکارڈ، ووٹنگ سے قبل ہی 4650 کروڑ روپے ضبط

لوک سبھا انتخاب کو بدعنوانی سے پاک اور شفاف بنانے کے لیے الیکشن کمیشن لگاتار کوششیں کر رہا ہے۔ 15 اپریل کو کمیشن نے اس تعلق سے ایک اہم جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے افسران یکم مارچ سے روزانہ تقریباً 100 کروڑ روپے ضبط کر رہے ہیں۔ انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخاب کے مدنظر افسران نے نقدی، نشیلی اشیا اور شراب سمیت مجموعی طور پر تقریباً 4650 کروڑ روپے قدر کی ضبطی کی ہے۔

اس ضبطی میں 45 فیصد حصہ داری نشیلی اشیا کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ یکم مارچ سے اب تک کی گئی ضبطی 2019 کے پارلیمانی انتخاب کے دوران ضبط کیے گئے 3475 کروڑ روپے کو پار کر گئی ہے۔

ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا جا رہا ہے کہ ابھی لوک سبھا 2024 کے لیے پہلے مرحلے کی ووٹنگ بھی نہیں ہوئی ہے اور 4658 کروڑ روپے قدر کی ضبطی نے پچھلے سبھی ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ یعنی آزادی کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں، اب تک اتنی بڑی ضبطی نہیں ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں گجرات، پنجاب، منی پور، ناگالینڈ، تریپورہ اور میزورم میں انتخابات کے دوران بڑی مقدار میں ضبطی کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے گزشتہ ماہ عام انتخاب کا اعلان کرتے ہوئے ’منی پاور‘ کو ایک اہم چیلنج بتایا تھا، اس لیے ہر طرح کی سرگرمی پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس درمیان انتخابی تشہیر میں سیاسی لیڈروں کی مدد کرتے پائے گئے تقریباً 106 سرکاری افسران کے خلاف اس نے سخت کارروائی بھی کی گئی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading