صدر رجب طیب ایردوان نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر دیا۔
صدر نے انقرہ کے ملت کنونشن سینٹر میں ہفتہ عید میلاد النبی کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کیا ۔
انہوں نے فرانسیسی صدر ماکروں کے اسلام مخالف بیانات کے جواب میں عالمی سربراہوں سے درخواست کی کہ اگر فرانس میں مسلمانوں کے خلاف ظلم روا رکھا جا رہا ہے تو آئیے مل کر اس کی تلافی کریں۔
صدر ایردوان نے فرانس پر اس وقت ذہنی طور پر مفلوج ایک شخص کی حکمرانی ہے جس نے دین اسلام پر بد کلامی اور بے حرمتی کا بازار گرم کر رکھا ہے میری ترک عوام سے گزارش ہے کہ وہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔
انہوں نے برلن میں گزشتہ ہفتے ایک مسجد پر پولیس چھاپے سے متعلق چانسلر مرکل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں تو آذادی مذہب کا کافی پرچار ہوتا ہے اور جسے وہاں سرکاری سر پرستی بھی حاصل ہے تو کیا وجہ ہے کہ جرمن پولیس کے ایک سو اہلکار نماز فجر کے وقت مسجد پر دھاوا بول دیتے ہیں ،کیا کسی نے ترکی میں اس قسم کی حرکات کا مشاہدہ یا تجربہ حاصل کیا ہے نہیںٖ: کیونکہ صحییح معنوں میں دینی آزادی کا اطلاق ہمارے یہاں ہے۔
صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام اور مسلم دشمنی کی سر پرستی اب یورپی رہنماوں کے منشور میں شامل ہو چکی ہے، یورپی رہنما فاشسٹ ہیں اور حقیقی معنوں میں نازی ازم کی کڑی ثابت ہو رہے ہیں،حالیہ ایام میں پیش آئے واقعات ، صدارتی عہدے پر فائز سربراہوں کی بد تہذیبی اور نماز فجر کے وقت مسجد پر پولیس کا دھاوا ہمارے لیے غیر معمولی واقعات نہیں ہیں بلکہ ہم ساٹھ لاکھ کی مسلم آبادی کے حامل ملک کے صدر کو خبردار کر رہے ہیں کہ اسلام دشمنی روا رکھنے کے کچھ ہاتھ نہیں آئے بلکہ تباہی مقدر بن جائے گی ۔