کابل: افغانستان وزارت عوامی صحت کے ترجمان اور خارجہ تعلقات کے سربراہ، ڈاکٹر وحیداللہ مجروح نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت کابل میں علماء کونسل کے اجتماع میں ہونے والے خود کش حملے میں اب 43 افراد ہلاک جب کہ 83 زخمی ہوئے ہیں۔
بقول ترجمان، حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے 24 کی حالت تشویشناک ہے۔ ادھر، ایمرجنسی اسپتال نے بتایا ہے کہ جو 40 زخمی اسپتال لائے گئے، اُن میں سے سات پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔
اس سے قبل موصولہ خبروں کے مطابق، افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ایک مقامی شادی ہال میں عید میلادالنبی کے موقع پر ہونے والے مذہبی علماء کے اجتماع میں ایک خود کش بمبار نے اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا دیا۔

مقامی وقت کے مطابق شام 6:15 بجے ہونے والے اس دھماکے سے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع یہ شادی ہال لرز اُٹھا اور اس کے متعدد حصے تباہ ہو گئے۔
اُرینس شادی محل نامی اس شادی ہال میں سیاسی اور مذہبی تقریبات کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس شادی ہال کے منیجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز اجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ خود کش بمبار نے یہ دھماکہ اجلاس کے عین وسط میں کیا۔ اس اجتماع میں سیکڑوں مذہبی شخصیات شریک تھیں۔
فی الحال کسی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ افغانستان میں گزشتہ سال سے امن و امان کی صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے اور حالیہ ہفتوں میں طالبان اور داعش نے کابل اور اس کے گرد و نواح میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔
بشکریہ وائس آف امریکا