علماء کے لئے لازم ہے کہ وہ اتحاد و اتفاق کے داعی اور یکجہتی کے علمبردار بنیں
دارالعلوم وقف دیوبند میں منعقدہ علمی محاضرے سے پروفیسرو مولانا وارث مظہری کا خطاب
دیوبند۔۱۳؍جولائی(پریس ریلیز)گذشتہ کل دارالعلوم وقف دیوبند میں حجۃ الاسلام اکیڈمی کے زیر اہتمام ’’الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و نظریات اور ان کی عصری معنویت‘‘کے عنوان سے ایک علمی محاضرے کا انعقاد کیا گیا جس میںجامعہ ہمدرد دہلی میں شعبہ اسلامیات کے اسسٹنٹ پروفیسر جناب مولانا وارث مظہری نے پرمغز علی محاضرہ پیش کیا۔ دورانِ محاضرہ انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی آفاقی فکر پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حضرت کی توسع فکری نے بہت سے ایسے مسائل کو جو مسلمانوں کے مابین لاینحل تھے

انہیں شرعی اسرار و رموز کے ساتھ اس انداز میں حل فرمایاکہ جس سے فقہ و اجتہاد کے بہت سے باب وا ہوگئے۔ اسلامی تاریخ میں وہ ایسے تنہا مفکر نظر آتے ہیں جنہوںنے شرعی احکام و مسائل کے اسرار و حکم اور مقاصد کا منطقی تجزیہ کیا اور اسلامی تاریخ کی پیچیدہ گتھیوں کو اس انداز میں سلجھایا کہ شک و تذبذب کے گرداب میں پھنسے اذہان و قلوب کو طمانیت و سکینت حاصل ہوئی، آج کے موجودہ احوال میں جب کہ شرعی احکامات و اصطلاحات غیروں کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔ تمام لوگوں کا ہدف تنقید اسلام اور اسلامی تعلیمات ہے، ایسے میںشاہ ولی اللہؒ کے افکار سے استفادہ کرکے شرعی احکام کی توضیح نقلی دلائل کے ساتھ عقلی و منطقی طرز استدلال سے کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں بالخصوص ہمارے نوجوان علماء کے لئے ضروری ہے کہ وہ فکر ولی اللٰہی کا مطالعہ کریں، ان کے افکار کو سمجھنے کی کوشش کریں اورموجودہ احوال میں اس کو تطبیق دیں۔ نیز غور کریں کہ حضرت شاہ صاحبؒ کا مسائل کو پیش کرنے کا انداز کیا ہے؟کس انداز میں وہ مخاطب کی فہم اور ان کے معیار کا خیال رکھتے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے اپنی فکرو نظریہ کے ذریعہ جابجا اتحاد و یکجہتی کا کس انداز میں پیغام دیا۔ ان کی تحریر اپنی علمی ندرت کے ساتھ اتحاد و اتفاق کی بھی داعی ہوتی ہے۔ وہ ہر جگہ یکجہتی کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں۔ انہوںنے دورانِ محاضرہ کہا کہ موجودہ دور میں علماء کے لئے لازم ہے کہ وہ بھی اتحاد و اتفاق کے داعی اور یکجہتی کے علمبردا ربنیں اس لئے کہ آپ ہی حضرت شاہ ولی اللہ کے علمی وارث اور ان کے جانشین ہیں۔ محاضرے کے آغاز میں حجۃ الاسلام اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا ڈاکٹر محمدشکیب قاسمی نے محاضرہ سے متعلق عنوان کا تعارف کراتے ہوئے فکر ولی اللّٰہی کی عصری معنویت پر خصوصی گفتگو کی اورمحاضر محترم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوںنے کہا کہ حجۃ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند اپنے فضلاء کی ذہنی پرداخت کی غرض سے مختلف مواقع پر اس طرح کے اہم عناوین پرمحاضرات کا انعقاد کراتی ہے۔ اس موقع پرمختلف اساتذہ جامعہ موجود رہے۔