ایک سعودی وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب میں زائد المیعاد اقامہ یا رہائشی اجازت نامہ رکھنا گرفتاری کی وجہ نہیں ہے۔
وکیل زیاد الشلان نے ٹک ٹاک ویڈیو میں کہا، "ایک پولیس اہلکار کو اقامہ ختم ہونے کی بنا پر کسی غیر ملکی باشندے کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں ہے۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ مقررہ وقت میں اقامہ کی تجدید میں ناکامی پر خود بخود جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے جب تک کہ اقامہ کے حامل کو گرفتار کرنے کے لیے دستاویز کی میعاد ختم ہونے کے علاوہ کوئی اور وجہ نہ ہو۔
مملکت میں داخل ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ 90 دنوں میں رہائشی شناختی کارڈ حاصل کرنے میں ناکام رہنے والے تارکینِ وطن پر 500 سعودی ریال کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
سعودی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ نے کہا ہے کہ کسی غیر ملکی مرد/عورت کے لیے میڈیکل ٹیسٹ بھی لازمی ہے تاکہ متعلقہ فیس کی ادائیگی کے بعد سرکاری پلیٹ فارم ابشر یا مقیم پورٹل کے ذریعے اس کے آجر کے لیے ایک رہائشی شناختی کارڈ جاری کیا جائے۔
مملکت میں مقیم تارکینِ وطن اسی مدت کے لیے تجدید کے آپشن کے ساتھ تین ماہ کے رہائشی اجازت نامے حاصل کر سکتے ہیں اور وہ 2021 میں شروع کیے گئے نظام کے تحت اپنے اسمارٹ فونز پر اقامہ کی ڈیجیٹل کاپی محفوظ کر سکتے ہیں۔
اقامہ کی سہ ماہی تجدید تارکینِ وطن کو سہ ماہی بنیادوں پر بھی زیرِ کفالت فیس ادا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
حکومتی ادائیگی کے نظام کے مطابق اقامہ فیس سہ ماہی یا دوسال کی بنیاد پر ادا کی جا سکتی ہے۔