دیوبند: شہریت ترمیمی قانون اور شہریت (س اے اے) کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے خلاف ملک بھر کے ساتھ دیوبند میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور خواتین بھی اس تحریک میں مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں۔ بدھ کے روز سی اے اے اور این آر سی کے خلاف سڑکوں پر آکر برقعہ نشیں خواتین نے پیدل مارچ کیا اور صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم بھیج کر شہریت ترمیمی قانون کو منسوخ کرنے کامطالبہ کیا۔

صبح تقریباً 11 بجے سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت میں برقعہ نشیں خواتین نے گھروں سے باہر نکل کر اسلامیہ بازار سے پر امن پیدل مارچ شروع کیا۔ مارچ میں شامل خواتین نے مختلف نعرے لکھی تختیاں ہاتھوں میں اٹھارکھی تھیں، انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے سی اے اے کے خلاف اپنے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا اور اس کالے قانون کو واپس لینے کامطالبہ کیا۔
خواتین نے سی اے اے اور این آرسی کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی سے کہاکہ اس کالے قانون کے خلاف پورے ملک میں ہونے والے احتجاجوں اور لوگوں کے مطالبات پر مثبت انداز میں غوروفکر کیا جائے۔ خواتین دارالعلوم چوک اورمسجد رشید سے ہوتے ہوئے خانقاہ پولیس چوکی پہنچی اور انہوں نے وہاں موجود سی او چوب سنگھ کو صدر جمہوریہ کے نام میمورنڈم سونپا۔

میمورینڈم کے ذریعے صدر جمہوریہ ہند سے مطالبہ کیا گیا وہ فوری اس قانون کو منسوخ کریں۔ اس دوران یہ واضح نہیں ہوسکا کہ خواتین کا یہ مارچ کس کی قیادت میں نکلاگیا اور کس تنظیم کے تحت یہ مارچ نکلاگیا۔ کیونکہ کے بدھ کے روز پولیس انتظامیہ کے پاس دیوبند میں کسی طرح کے احتجاج کی اطلاع نہیں تھی، دیوبند سی او چوب سنگھ نے کہاکہ تقریباً پندرہ خواتین نے انہیں آج ایک میمورنڈم دیاہے، جو انگریزی زبان میں صدر جمہوریہ ہند کے نام ہے۔ انہوں نے بتایاکہ میمورنڈم میں خواتین نے کسی تنظیم یا خود کے نام تحریر نہیںکئے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-