دیوا – اننت پارک سوسائٹی کے مکینوں کو راحت – قانونی حل نکالنے کی یقین دہانی
مکینوں کو بے گھر نہیں ہونے دیا جائے گا – نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے
تھانے (آفتاب شیخ)
دیوا شہر میں 18 سال پرانی اننت پارک سوسائٹی کے خلاف میونسپل کارپوریشن کی کارروائی کے بعد پیدا شدہ تنازع کو حل کرنے کے لیے قانونی راستہ نکالا جائے گا اور کسی بھی مکین کو بے گھر نہیں ہونے دیا جائے گا، یہ یقین دہانی نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے منترالیہ میں سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کرائی۔
ہائی کورٹ کی ہدایت پر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اننت پارک سوسائٹی کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوتے ہی مکینوں میں بے چینی پیدا ہو گئی۔ جب میونسپل افسران انہدامی کارروائی کے لیے پہنچے تو مکینوں نے سڑکوں پر اتر کر زبردست احتجاج کیا اور ٹیم کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔
اس معاملے میں شیوسینا ابتدا سے ہی مکینوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ گزشتہ روز شیوسینا کے شہر سربراہ رماکانت مڑوی کی قیادت میں پارٹی کارکنوں نے میونسپل کارروائی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ اسی دوران رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شری کانت شندے نے میونسپل افسران سے فون پر بات کی، جس کے بعد بلدیہ کو بالآخر کارروائی روکنی پڑی۔
منترالیہ میں اننت پارک سوسائٹی کے مکینوں نے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے واضح طور پر کہا کہ "18 سال پرانی اس سوسائٹی کے تعلق سے قانونی کارروائی جاری ہے اور کسی بھی مکین کو بے گھر نہیں ہونے دیا جائے گا۔"
اس ملاقات میں شیوسینا شہر چیف رماکانت مڑوی، کارپوریٹر شیلیش پاٹل، ڈپٹی شہر چیف آدیش بھگت، گنیش منڈے، کارپوریٹر امر پاٹل، دیپک جادھو، امیش بھگت، چرنداس مہاترے، ونود مڑوی، نیلیش پاٹل، ششی کانت پاٹل، جگدیش بھنڈاری، ارون مہاترے، سچن مہاترے اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔
