حکومت کالاک ڈائون، پولیس کا کریک ڈائون : عوام کی کیفیت !

خدائی قہر کووِڈ -۱۹ دنیا بھر میں جاری ہے ساری دنیا کواس نے گھٹنے پر لاکر کھڑا کردیاہے۔امریکہ،چین،وغیرہ سب کا (پتہ ) کلیجہ پانی کیا ہواہے، اللہ رب العزت کی قدرت کے آگے سب بے بس ہیں۔ علاج ومعالجہ کے ساتھ حکومتیں احتیاطی تدابیر اختیار کررہی ہیں، ہمارے ملک عزیز ہندوستان میں بھی ہمارے پرائم منسٹر مودی جی نے ایک دن پہلے جنتا کر فیو کا اعلان کرکے سب سے تالی لگوائی،تھالی بجوائی، گھنٹہ ہلوایا۔ لیکن کرونا نے سنی ان سنی کردی جیسے ہمارے پرائم منسٹر مودی جی کمزوروں،مظلوموں کی آواز کو سنی ان سنی کرتے ہیں،آنجناب اس کے ماہر ہیں۔پھر مہاشے( نہایت شریف، بڑا اور بھلاآدمی) مودی جی،24 مارچ کوٹیلی ویزن،TV, پر پَرکٹ( نمودار) ہوئے اور ایک طویل لاک ڈائون کا اعلان کر دیا۔ویسے جب بھی مہاشے ٹی۔وی پر پَرکٹ ہوتے ہیں تو مصیبتوں کا پہاڑ لیکر عوام پر تھوپ دیتے ہیں جھیلو،مرو، نوٹ بندی ہو، جی ایس ٹی ہو،لاک ڈائون ہو،عوام مرے تباہ ہو لیکن ماشے کا دعویٰ ہوتا ہے کہ یہ سب عوام کی بھلائی کے لیے کر رہے ہیں۔ بغیر تیاری۔۔۔ نوٹ بندی۔بغیر تیاری۔۔۔ جی ایس ٹی۔بغیر تیاری لاک ڈائون: بغیر پلاننگ کے عوام پر تانا شاہی فر مان جاری کر کے،آنکھ، کان بند کرکے عوامی پریشانیوں سے منھ موڑ لیتے ہیں۔

کیا Lockdown کے پہلے کوئی تیاری ہوئی؟: *احتیاطی تد بیر لاک ڈائون*:کو رونا سے بچنے کا بہت موئثر طریقہ ہے،پر کیا اس کی کوئی تیاری کی گئی چاروں طرف سے اس پر سوال اُٹھ رہے ہیں خود این ،ڈی،اے کے ساتھی نتیش کمار نے اسکی زبردست مذمت کی ہے،اتنا بڑاملک%40 سے زیادہ غریبی ریکھا سے نیچے رہنے والی عوام مزدور پیشہ ڈیلی کمانے والے غریب لوگ ہیں کیسے زندہ رہیںگے؟ لاک ڈائون سے لاکھوں مزدور پریشان، بے سہارا اور بے روز گار،دہلی اور دیگر بڑے شہروں سے گائوں کی طرف پیدل سفر کرتے ہوئے نقل مکانی پر مجبور؟ ہیں ،یہ لوگ کیسے زندہ رہیں گے پہلے لاک ڈائون کا اعلان پھر پیکج کا اعلان کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ اخبارات،نیوز، سوشل میڈیا میں دہلی،ممبئی،حیدر آ باد،بہار وغیرہ کی خبریں تصویریں دیکھ کر کلیجہ منھ کو آتا ہے( اللہ سب پر رحم فر مائے) خلیجی ممالک میں بھی لاک ڈائون لگے ہوئے ہیں،چنیندہ جگہوں پر ہوٹل کھلے ہوئے ہیں کمپنیاں اپنے لیوروں کو کھانا پینا ہوم ڈیلیوری کر رہی ہیں،خیر یہ تو خلیجی ممالک ہیں۔ہماراملک جنت نشان جہاں عام دنوں میں بچہ ’’ بھات بھات‘‘ کر کے مر جاتا ہے جسے ساری دنیا کی میڈیا نے دیکھایا لیکن حکومت نے بیماری سے موت بتاکر معاملہ رفع دفع کردیا، اب تو ایمر جنسی کا دور چل رہا ہے اب کون دیکھے گا کون سنے گا ؟ لاک ڈائون میں جب بھوک سے بلبلاتے بچے کے لیے اور اپنی شدید ضرو رتوں کا سامان لینے کوئی باہر نکل رہا ہے تو پھر پولیس crackdown (مروجہ قانون کا اچانک وسختی سے نفاذ) ایسے نفاذ کرر ہی ہیکہ دیکھتے بنتا ہے،تصویریں دیکھئے سوائے کفِ افسوس کے ہم،اور آپ کچھ نہیں کر سکتے،ہندوستان کے بڑے اخباروں میںدینک بھاسکر جمشید پور اڈیشن27 مارچ و28 مارچ میں پولیس بر بریت کی تصویریں دیکھئے دل دہل جائے گا۔پولیس اپنے ہی ملک کے باشندوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کر رہی ہے جیسے دوسرے ملک کی فوج ہے، یایہ بھی پاکستانی یا بنگلہ دیشی گھس پیٹھی ہے،حکومت کے ذمے داروں کو اس پر جلد توجہ دینی چاہیے۔کیا پولیس کو نہیں معلوم کہ انسانی مجبوریاں اور ضروریات بھی ہوتی ہیں، گھر کا ذمہ دار بچوں کی بھوک کو دیکھ کر مجبورً اباہر سامان لینے نکلتا ہے،یہ بھی سچ ہے کہ لا اینڈ آڈر کے سنبھالنے کی ذمہ داری پولیس پر شاسن کی ہوتی ہے ولیکن انسانی ہمدردی و انسانی خد مات کا کچھ شائبہ بھی تودل میں ہونا چاہئے،وہ بھی تو بیوی بچے والے ہوتے ہیں۔ یا یہ کہ پولیس وردی میں ہی کوئی ایسا جن یا بھوت یا جادو ہو تا ہے جسے زیبِ تن کرتے ہی ایک انسان حیوان بن جاتا ہے،کسی کا ہاتھ کسی کا پیر کسی کا سر توڑنے پھوڑنے لگ جاتاہے؟ اور جسے چاہے خواہ عورت ہو یا مرد اس کو مارنے لگتا ہے پورے ملک میں پولیس کا کریک ڈائون جاری ہے ،یوپی اُونچا ہار میں SBI بنک منیجر کوSDM نے لاک ڈائون کے دوران ز بردست پٹا ئی کردی چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں،بڑے میاں بھی سبحان اللہ! پورے ڈیپارٹمنٹ کاہی حال خراب ہے ،یہ ایک اہم سوال ہے کیا حکومت کے ذمہ دار اس طرف توجہ دیں گے؟ اگر نہیں تو وہ دن بھی دور نہیں کہ ظلم کے آگے لوگ سینہ سپر ہو جائیں گے۔

*کو وِڈ-۱۹،غلط جانکاریاں اور ہماری ذمہ داری*: اسوقت سوشل میڈیا سے لیکر گودی میڈیا تک،ٹی وی سے لیکر اخبارات تک میں کو رونا وائرس پر طرح طرح کے بیانات آرہے ہیں اور ہر کوئی کورونا بیماری پر ریسرچ کرنے والا ماہر معلوم ہوتا ہے۔’’ اللہ کی پناہ‘‘ اگر کسی سے پوچھ لیا جائے کہcovid19کیا ہے تو زیا دہ تر کا جواب نفی میں ہی ہوگا’’ کہ معلوم نہیں‘‘ اس کو سمجھنے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ طرح طرح کی غلط باتیں پھیلی ہیں (بلکہ پھیلائی جارہی ہیں) بے چارے ڈاکٹر وما ہرین پیچھے رہ گئے،نیم حکیم خطرہ جان و ایمان بے پر کی اُڑائے جا رہے ہیں،دریدہ دلیری دیکھئے کی قرآن سے بھی کو رونا کا سوال و جواب اِنٹر ویو بناکر سوشل میڈیا میں ڈال رہے ہیں،ما رو گھٹنا پھوٹے آنکھ۔۔۔۔۔۔ والی مثال ہورہی ہے۔ قرآن مجید کی آیتوں کو اپنے من مانی تشریح لکھ رہے ہیں( استغفر اللہ اللہ رحم فر مائے) ہر مسئلہ ہر کوئی جانے ایسا ممکن نہیں،کسی ڈاکٹر وانجینئر کے کام میں کوئی ٹانگ نہیں اڑاتا،لیکن دین اسلام،قرآن و احادیث کا جانکار آجکل ہر کس وناکس اپنی طبیعت کے مطابق (شریعت کے مطابق نہیں) تاویلیں پیش کررہاہے جو علمائے حق ہیں وہ حیرت و تعجب،اچنبھا میں ہیں۔ ایک غلط کا جواب دیتے ہیں جب تک درجنوں غلط ،من مانی تاویلیں قر آن واحادیث کی منظرِ عام پر آجاتی ہیں،اللہ خیر فر مائے قیامت کی نشانی ہے اللہ لوگوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور خوفِ خدا بھی۔ آمین۔ سوشل میڈیا پر کورونا کی تفصیل قرآن میں ایسی بے تکی تحریر پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تحریر کو کسی جاہل محرر نے اپنی جہالت اور دریدہ دہنی کر کے قر آنی احکامات کو مسخ کر کے اپنی طبیعت کے مطابق تشریح کی ہے ۔

(معاذ اللہ،اللہ معاف فر مائے ہدایت نصیب فر مائے)۔ یہ سچ ہے کہ قرآن مجید میں ہے:وَنَزَّلْنَاعَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَا نًالِّکُلِّ شَیْئٍ وَّھُدًی وَّرَحْمَۃً وَّ بُشْرٰ لِلْمُسْلِمِیْنَ۔(القرآن، سورہ نحل،16:آیت89) تر جمہ: اور ہم نے تم پر یہ قر آن اتارا جو ہر چیز کو روشن بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں فر ماتے ہیں قرآن عظیم گواہ ہے، کہ وہ ہر چیز کا تبیان ہے اورتبیان اس روشن اور واضح بیان کو کہتے ہیں جو اصلاً پوشیدہ نہ ہو وغیرہ۔لَا یَفْقَھُوْنَ اِ لاَّ قَلِیْلَا۔ تر جمہ: ’’ *قرآن کو سب نہیں سمجھتے مگر تھوڑے لوگ* ۔‘‘ علمِ دین سے کوسوں دور لوگ قرآن مجید سے اِنٹر ویو لے رہے ہیں الا مان و الحفیظ من مانے اور اپنے نظریات کے مطابق تشریح کررہے ہیں،خود بھی گمراہ ہیں دوسروں کو بھی گمراہ کرہے ہیں۔ قرآن مجید کی آیاتِ کریمہ کا تر جمہ اور اس کی تفسیر کا مخصوص معنیٰ کرنے میں بہت احتیاط کا حکم دیتے ہوئے صاحبِ قر آن نبی کریم ﷺ نے متنبہ فر مایا:’’من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبواَ مقعدہ فی النار‘‘۔(رواہ التر مذی عن اِبن عباس رضی اللہ عنہ) تر جمہ: جو قر آن میں بغیر علم کے کہے وہ جہنم کو اپنا ٹھکانہ بنالے۔ چنانچہ ثابت ہو گیا کہ آیت کریمہ منسوب الیٰ اللہ کرکے اپنی منشا سے جہاں چاہے فٹ کر نا بہت بڑی جرات وجسارت ، گستاخی اور باعثِ دخول نار(جہنم) ہے۔ علمائے تفاسیر اصولِ تفسیر میں احتیاط کی باتیں بہت تفصیل سے لکھی ہیں۔ مشہور مفسرِ قرآن حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃاللہ علیہ نے قرآنی آیات کو اپنی گفتگو اور تحریر کا اقتباس بنانے کی وضاحت کرتے ہوئے فر مایا:’’ شعر یا نشر میں قرآنی آیات کو اپنی گفتگو اور تحریر میں قرآن کا کوئی ٹکرا اس طور پر شامل کر لینا کہ وہ اپنے کلام کا حصہ بن جائے اسے بھی مالکی علمائے تفسیر نے حرام قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے پر سخت وعید کی نشاندہی فر مائی ہے۔( اس پر ایک الگ سے مضمون لکھنے کی ضرورت ہے آئندہ ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور) صوفیاے کرام سے کوئی سوال کرتا تو وہ پوری وضاحت فر ماتے یہ کلامِ الٰہی کا حصہ ہے اور اس سے یہ معنیٰ نکلتے ہیں احادیث کی روشنی میں،( اپنی مرضی شامل نہ فر ماتے) کاش ہم سوشل میڈیا کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں اور ہر عربی عبارت (تحریرکو) قرآن وحدیث بناکر پیش نہ کریں جب تک اِتنا دینی علم نہ ہومیسیج(sms) پوسٹس کو چھان بین اور تحقیق کے بغیر آگے نہ بھیجیں ورنہ اللہ کے وہاں سخت پکڑ کے لیے تیار رہیں۔ جو دل میں آیا لکھ مارا اور اسے اللہ ورسول کی طرف منسوب کر کے بھیج دیا اس سے خدارا بچیں۔

*کووِڈ۔۱۹ یقینا ایک خطر ناک وبا ہے*:

اللہ کی پناہ ایسے موذی مرض سے، کورونا ایک وائرس والی بیماری ہے۔ وائرس ایک بے جان ڈی این اے ہے جب اس کو کسی جاندار میں شامل کیا جائے تو بیکٹیریا کی مدد سے وہ منٹوں میں لاکھوں کی تعداد میں بچے پیدا کرتا ہے اور جب کوئی جاندار اس کو چھو تا ہے،وائرس اس شخص میں منتقل ہو جاتا ہے،سب سے ضروری بات وائرس ہواکے ذریعہ نہیں پھیلتا ہے۔میڈیا نے اتنا زیادہ ڈر پید اکر دیا ہے کہ لوگ گھروں سے نکلنے میں ڈر رہے ہیں۔ ہمارا دشمن ہماری سوچ سے بہت آگے نکل چکا ہے،امریکہ اور چین کی لفظی جنگ کی تفصیلی رپورٹ پر نظر رکھیں مطالعہ فر مائیں سب سمجھ میں آئے گا، مگر افسوس ہمارے نوجوانjio,jio, jio, میں مست ہیں jio سے باہر نکلیں تو آگے کچھ سوچیں کچھ کو چھوڑ کر الا ماشا اللہ بہت برُا حال ہے ۔ کورونا وائرس ایک متعدی ( چھوت کی بیماری،ایک سے دوسرے کو لگنے والا مرض،) مرض ہے اس سے بچائو ہی اس کا سب سے بڑا علاج ہے جو آجکل میڈیکل ماہرین بتا رہے ہیں ،سوشل ڈیس ٹینس،social distance بنائے رکھیں۔ اسلام کا یہی طریقہ ہے اللہ کے رسول ﷺ نے متعدی ،موذی بیماریوں سے بچنے کے طریقے بتائے ہیں، اسلامی کتب،احادیثِ طیبہ کا مطالعہ فر مائیں دماغ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے اِن شا ء اللہ تعالیٰ۔ ایک حدیث ملاحظہ فر مائیں،:عن ا لنبیی ﷺ، قال:’’ لا تد یمو النظراِلی الجذمین، واذا کلمتمو ھم، فلیکن وبینھم قید رمح‘‘۔ تر جمہ:حضور ﷺ نے فر مایا: کہ کسی جذامی(کوڑھ کے مریض) کو نظر گاڑ کر نہ دیکھو، اس سے بات کرتے وقت تمھارے اور اس کے در میان ایک سے دو نیزے(6 سے12فٹ تک) کا فاصلہ ہونا چاہیے،یعنی جو مرض متعدی ہے جیسے کورونا وائرس اس کے متاثرین سے اتنا سوشل ڈیس ٹینس رکھو!!!۔( مسند احمد،حدیث:851،مسند ابو یعلی،حدیث:6774، امام دیلمی کی فر دوس الاخبار،حدیث:1024) نوٹ: پہلی دونوں حدیثوں کی کتابوں میں ایک نیزہ یعنی تقریباً 6 فٹ جب کہ نیچے والی حدیث کی کتاب میں دو نیزے یعنی تقریباً 12فٹ ڈیس ٹینس رکھنے کا حکم ہے۔

*دنیا بھر میں کووِڈ۔۱۹ کا قہر جاری*:
کورونا وائرسcovid.19 میں ہلاکتوں کی تعداد 25 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہیں حکومتlockdown کا اعلان کر چکی ہے ہر شخص کو اس کا سختی سے پالن کر نا چاہیے۔لیکن انسانی ضروریات بھی اَیسی کی رکا نہ جائے سہا نہ جائے دیکھانہ جائے،میری بیٹی ہاشمی نورالعین عمر 30 سال سر میں سخت دردِ اُٹھا پرانہ مرض بلڈ کلائوڈ ہوا تھا دس سال پہلے،جب کب پریشان کرتا ہے بر ہما نند ہوسپٹل لیکر جاناپڑا بہت مشکل سے وہاں پہنچا کوئی ڈاکٹر نہیں ملا جانے کی داستان کیا لکھیں۔ اللہ ہمارے حکمرانوں خاص کر پولیس محکمہ کے لو گوں کو سمجھ عطا فر مائے،یہی پولیس والے سائوتھ میں بھی توہیں انسانی خد مت گزاری میں کس قدر آگے بڑھ چڑ ھکر حصہ لے رہے ہیں۔
*جمعہ کے دن لوک ڈاٗون*: جمعہ کے دن پورے ملک میں مسجد بند رہیں شعوری طور پر مسلمانوں نے لاک ڈائون کو قبول کیا ہے آئمہ مساجد نے اپنی دانشمندی کا ثبوت پیش کیا۔اُنھوں نے اپنی مسجدوں سے اعلان کرکے مصلیان کو گھروں میں نماز ادا کرنے کی تلقین کی اور نمازِ جمعہ کے بجائے ظہر کی نماز پڑھنے کو کہا گیا لوگوں نے اسے قبول کیا چند لوگ جو جذباتی قسم کے تھے اُنھوں نے منھ سکوڑا۔ ایسے جذباتی حضرات کو معلوم ہونا چاہیے کہ کسی وبائی مرض میں مر نا اگر ’’شہادت‘‘ تواپنی ہٹ د ھر می سے وبائی مرض میں مبتلا ہوکر مر جانا’’خود کشی‘‘ ہے، اور اپنی جہالت سے کسی دوسرے تک مرض منتقل کر نا’’ اقدامِ قتل‘‘ ہے، بے شک موت خدا کے ہاتھ میں ہے: مگر احتیاط اپنے ہاتھوں میں ہے؛ لہذا چوکنا رہئے، ہوشیار رہئے، اور یاد رکھئے کہ احتیاط علاج سے بدر جہا بہتر ہے۔۔۔۔ کووِڈ ۱۹ ایک انتہائی مہلک بیماری ہے اورwho وصحت کے ماہرین ڈاکٹروں کا متفقہ طور پر کہنا ہے کہ کسی متاثرہ شخص کی قربت اس کے پھیلنے کا سبب بنتا ہے، اس لیے اس سے لاک ڈائون سے ہی مکمل طور پر بچا جاسکتا ہے۔ جولوگ مسجدوں میں لوک لگانے اور نماز پرھنے پر پابندی کے لئے کوشاں تھے وہی لوگ آج محلوں میں جمگٹھا لگائے ہوئے رہتے ہیں ایسے لوگوں کو کون سمجھا سکتا ہے اللہ ہم تمام لوگوں کو اس موذی مرض سے بچنے کی توفیق عطا فر مائے آمین:

حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی

رابطہ: 09431332338

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading