✍ :پرویز نادر
8/تاریخ پی اے سی کالج ماندھیا کرناٹک میں ہوئے مسلم طالبہ بی بی فاطمہ کے دلیرانہ واقعے پر میرا تحریر کردہ آرٹیکل انعام نہیں حق دلواؤ جس میں میں نے جمعیت علماء(محمود مدنی) کی طرف سے اعلان کردہ پانچ لاکھ کے نقد انعام پر کہا تھا کہ قریب ایک مہینے سے چل رہے حجاب تنازعہ میں آپ کی رہنمائی ہونی چاہیے تھی یا آپ مسلم طالبہ کی بے خوفی پر انعام دینے کے بجائے اس کے حجاب کے لیے چل رہے احتجاج جو ایک طرف اڑوپی اور دوسری طرف مہاتما گاندھی میموریل کالج میں حجاب کے خلاف سنگھی ذہنیت اور اسلام دشمنی پر مبنی اقدام کے خلاف طلباء کا ساتھ دیتے،جس کی سماعت کرناٹک ہائی کورٹ میں چل رہی ہے،کیوں کہ یہ احتجاج جو اڑوپی کے کالج میں مسلم طالبات کو برقعہ پہن کر کالج اور کلاس میں داخلہ نا دینے کے بعد ہائی کورٹ میں درخواست دینے اور کالج کے باہر بیٹھی رہنے سے شروع ہوا ایک سنگین نوعیت کا مسئلہ تھا جس میں طالبات کے تحفظ اور ان کی عظمت و عفت اور بنیادی حق حجاب و شناخت کا مسئلہ تھا جہاں سنگھی بھیڑیے آنکھوں میں شرارت لیے،گلے میں زعفرانی رومال ڈال کر طالبات کو اپنے غول میں لینے کی تاک میں خوف و دہشت کے نعرے لگارہے تھے وہاں مسلم طالبات بغیر کسی پروٹیکشن اور مرکزی قیادت کے ڈٹی ہوئی تھیں، حقوق و شناخت کی اس لڑائی میں ایک ایسا لمحہ جس نے ساری دنیا کی توجہ اپنی طرف متوجہ کرادی اس کو غنیمت جان کر انعام کا اعلان کرنا بظاہر کسی کے نزدیک ایک حوصلہ بخش اقدام ہو سکتا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ سیاست ہے ”واقعے کے ایک دن بعد انعام کی رقم بی بی مسکان کے گھر پہنچادینے میں جمعیت نے کون بنے گا کروڑ پتی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے،اسی لیے تو میرا یہ سوال اور امت کے ہر فرد کا ہونا چاہیے کہ پچھلے ایک مہینے سے آپ کہاں تھے،چلیے سوشل میڈیا پر ہر طرف آپ ہی کے تذکرے ہیں،کیوں کہ رقم بھی تو بڑی ہے، بس عرض یہ کرنا ہیکہ جس طرح بڑی مستعدی کے ساتھ آپ بہن مسکان کے گھر اس کے دلیرانہ اور بے خوف ہوکر نعرہ تکبیر بلند کرنے پر حوصلہ افزائی کی خاطر پہنچے ہیں اسی طرح جب یہ طالبات اپنے اسکول اور کالج پہنچے اور پھر طلباء کی شکل میں حیوان صفت درندے ان مسلم لڑکیوں کو گیٹ ہی پر روک دیں کہ پہلے برقعہ اتارو پھر اندر جانا اس وقت امید ہے کہ آپ بھی لڑکیوں کے محافظ بن کر وہاں کھڑے رہیں گے،اور ساتھ ہی حجاب کے خلاف اس نفرت اور اسلام دشمن فضا کو جو دیگر ریاستوں میں بھی پھیلتی جارہی ہے کے خلاف مسلم خواتین کے دست بازو اور محافظ بن کر موثر رہنمائی کریں گے اس وقت خدا گواہ ہے آپ کی تعریف کے قصیدے پڑھنے میں بھی ہم کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھیں گے اور آپ کی قیادت با سعادت میں چلنے والے قافلے میں ایک خادم بن کر اپنی بقیہ زندگی گزارنے پر فخر محسوس کریں گے