تمل ناڈو کے ضلع کانچی پورم میں پیریار کا مجسمہ توڑا گیا

چنئی: سماجی برائیوں کے خلاف لڑنے والے لیڈر ای وی راماسوامی عرف پیر یار کی 1971 میں منعقدہ ریلی کے سلسلے میں اداکار سے لیڈر بنے رجنی کانت کے تبصرہ کے بعد پیدا ہوئے تنازعہ کے بیچ تمل ناڈو کے ضلع کانچی پورم میں اتیرمیر کے قریب کالیپیٹائی میں ان کا مجسمہ توڑ دیا گیا ہے۔

اس حرکت سے ناراض دراوڑ منیتر کڈگم (ڈی ایم کے) کے صدر ایم کے اسٹالن نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اسٹالن نے کہا، ’’یہ ایک شرمناک حرکت ہے۔ انہوں نے 93 برس تک تامل کی حمایت میں آواز اٹھائی تھی۔‘‘

پولیس ذرائع نے کہا کہ پیریار کے مجسمہ کے کئی حصوں کو توڑ دیا گیا ہے جسے بعد میں سفید کپڑوں سے ڈھک دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی اور کسی طرح کے ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں نے اس واقعہ کے پيچھے رجنی کانت کے حامیوں کا ہاتھ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ ادھر، پیریار کے سلسلے میں دیئے گئے بیان کے لئے رجني کانت سے معافی مانگنے کی مانگ پر دراوڑ تنظیموں نے دھرنا مظاہروں کا انعقاد کیا۔

واضح رہے کہ رجنی کانت نے تغلق میگزین کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر کہا تھا کہ مسٹر پیریار کی 1971 میں سالم میں منعقد ریلی میں بھگوان رام اور سیتا کی بنا لباس کی مورتیوں پر چپلوں کی مالا پہنائی گئی تھی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading