تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف سراپا احتجاج

وانمباڑی ( پریس ریلیز): سی اے اے ( CAA) اور (NRC) کے خلاف تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کی جانب سے وانمباڑی ، بس اسٹینڈ کے قریب ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے کی صدارت تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے ریاستی چیئرمین ڈاکٹر اسلم باشاہ نے کی۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ایک پرامن تحریک کو ملک بھر میں چلارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں جو بھی احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں وہ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ ملک کے آئین کو بچانے کیلئے ہورہے ہیں۔ ملک میں ہندو مسلم میں تفریق پیدا کرکے ہی بی جے پی اقتدار میں آئی ہے ۔ آئین میں سب کو یکساں حقوق حاصل ہے ، آرٹیکل 14 کے تحت ہندوستان میں رہنے والے تمام مذاہب کے ماننے والے ہندوستانی ہیں۔ اس کے خلاف ملک کے ہزاروں دانشوروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سی اے اے جیسے کالے قانون کو رد کرے۔

یہ احتجاجی مظاہرے سیاسی پارٹیوں اور لیڈران سے ہٹ کر نوجوانوں اور یونیورسٹی کے طلباء کے ہاتھ میں ہے ۔ اس ملک میں پچاس سال سے زیادہ رہنے والے شہریوں سے مودی اور شاہ شہریت ثابت کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں۔ تمل ناڈو میں احتجاجی مظاہروں میں شریک ہونے والوں سے پولیس غیر قانونی طور پر کئی پابندیاں عائد کررہی ہے جو قابل مذمت ہے ۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس عوام مخالف قانون کو فوری واپس لے۔ تمل ناڈو کے اے آئی اے ڈی ایم کے (AIADMK) کے پارٹی اور پی ایم کے نے اپنے 12 ووٹوں سے سی اے بی کے حق میں ووٹ دیکر ہندوستانیوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیا ہے ۔

اس موقع پر تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے ریاستی چیئرمین ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم ملک کو مذہب کے نام پر بانٹنے والے اور ہندوستانی آئین کی روح کو دھچکا پہنچانے والے بی جے پی حکومت کی طرف سے لائے گئے کالے قوانین سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس احتجاجی مظاہرے میں مسلمانوں کے برابر غیر مسلم برادران وطن کا حصہ لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمار ا ہندوستان ہمیشہ سے سیکولر تھا او ر سیکولر رہے گا۔ ہم کسی بھی صورت میں کسی کو بھی ہمارے درمیان تفریق ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس ملک کی آزادی کیلئے ہم سب نے ملکر قربانیاں دی ہیں اور آج ملک ایک بار پھر فسطائی طاقتوں کے شکنجے میں ہے ، ہماری ذمہ داری ہے ہم اس ملک کو ان فسطائی طاقتوں سے آزاد کرائیں۔

تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے ریاستی چیئرمین ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے این آر سی اور سی اے اے کے تعلق سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ این آر سی شہریوں کا قومی رجسٹر ہے جو ہندوستانی شہریوں کی ایک فہرست ہے جو صرف 1951میں آسام کیلئے تشکیل دی گئی تھی اور بعد میں 2019میں دوبارہ اپ ڈیٹ کی گئی۔ برٹش حکومت کے دور میں بنگالی بولنے والے مزدوروں کی آمد اور بعد میں تقسیم ہند کے بعد مشرقی پاکستان سے ہندو بنگالیوں کی ہجرت کی بنا پر این آر سی صرف آسام میں ہی کیا گیا تھا۔ 1971 کی بنگلہ دیش جنگ کے دورا ن بہت سارے بنگالی ہندو ہندوستان میں داخل ہوئے جو آسام میں بدامنی کا باعث بنا اور 1985میں راجیو گاندھی کے دستخط شدہ آسام معاہدے کے مطابق آسام میں این آر سی کو 2013 تا 2019سپریم کورٹ کی نگرانی میں دوبارہ اپ ڈیٹ کیا گیاتھا۔ اس حقیقت کو سمجھنا چاہئے کہ این آ ر سی صرف آسام کیلئے تھی۔ آسام میں این آر سی کے عمل کے دوران غریب بنگالی بولنے والے لوگوں خصوصابنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بے حد ہراسا ں کیا گیا ۔

جن مسلمانوں نے صحیح دستاویزات پیش کیں انہیں ایک بار پھر معمولی وجوہات کی بناء پر جان بوجھ کرمسودہ فہرست سے باہر کرکے پریشان کیا گیا اور انہیں دوبارہ دعوے کے عمل سے گذرنے کو کہا گیا۔ جن مسلمانوں کے نام مسودے کی فہرست میں شامل تھے ان کو آسام میں 3 لاکھ اعتراضات داخل کرکے پریشان کیا گیا۔ اسی طرح جب یہ قانون ملک بھر میں لاگو ہوگا تو اس سے صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ ملک کے غیر مسلم برادران کو بھی سخت نقصاندہ ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ اس قانون سے ملک کے عوام اور ملک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچے گا ۔ این آر سی اور سی اے اے کے پیچھے بی جے پی کا منشاء مسلمانوں کو تنگ کرنا ہے ۔ لہذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس قانون کے خلاف اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں اور اس وقت تک اپنے احتجاجات جاری رکھیں جب تک سی اے اے اور این آر سی کو بی جے پی حکومت واپس نہیں لیتی ہے ۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading