یہ کہانی ہے 70 سال پہلے کی جب انگریزوں کے جانے کے ساتھ ہی ایک بھارت دو حصوں میں بٹ گیا اور دو آزاد ممالک کا جنم ہوا انڈیا اور پاکستان۔ تقسیمِ ہند کی تاریخ سے جڑی کچھ اہم تاریخوں پر ایک نظر۔
دسمبر 1885 میں انڈین نیشنل کانگریس کا پہلا اجلاس ممبئی میں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے 20 برسوں میں کانگریس کو آزادی یا سیلف گوورننس کی تشہیر میں خاص دلچسپی نہیں تھی۔
تاہم 1905 میں پہلی تقسیمِ بنگال کے بعد کانگریس نے اصلاحات کا مطالبہ تیز کر دیا اور آخرکار برطانیہ سے مکمل آزادی کے لیے جدوجہد شروع کی۔

سنہ 1906 میں ملک کے مسلمانوں کے حقوق کے لیے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ کئی برسوں تک مسلم لیگ اور اس کے رہنماؤں نے ایک متحد اور آزاد انڈیا میں ہندو مسلمان اتحاد کے لیے مہم چلائی۔
فروری 1938 میں مہاتماگاندھی اور قائد اعظم نے ملک میں مذہبی کشیدگی کا حل نکالنے کے لیے بات چیت شروع کی لیکن یہ بات چیت جولائی میں ناکام ہو گئی۔ دسمبر میں مسلم لیگ نے کانگریس کے مسلمانوں کے ساتھ برے سلوک کی شکایات کی تحقیق کے بارے میں ایک کمیٹی قائم کی۔
قیامِ پاکستان کی تحریک میں ایک اہم پڑاؤ 23 مارچ 1940 کو آیا۔ اسی دن برطانوی راج کے خلاف بھارت میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی مسلم لیگ نے لاہور میں ایک تجویز پیش کی جسے قرارداد پاکستان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کے تحت مسلم اکثریتی علاقوں میں ایک پوری طرح آزاد اور خودمختار ملک کی تشکیل کی تجویز پیش کی گئی۔
وہیں وائسرائے لنلتھگو نے اگست کی پیشکش کا اعلان کیا، جس میں ایک ایگزیکیٹو کونسل اور وارایڈوائزری کونسل میں بھارتی نمائندوں کی تعیناتی کا اعلان ہوا۔ کانگریس اور مسلم لیگ نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور سترہ اکتوبر کو کانگریس نے انگریز راج کے خلاف عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی۔
گاندھی اورجناح نے ستمبر 1944 میں مسلم لیگ کے پاکستان کے مطالبے پر بات چیت کی جو ناکام رہی۔ دونوں کے درمیان وجۂ اختلاف پاکستان کا مطالبہ تھا۔
محمد علی جناح کا زور مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک یعنی پاکستان کے مطالبے پر تھا جبکہ گاندھی صرف آزادی کی بات کرتے تھے، جس میں بھارت میں ہندو اکثریت والی عارضی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو ان کی الگ شناخت تسلیم کیے جانے کی ضمانت دی جائے۔
سنہ 1946 میں مسلم لیگ کی طرف سے کابینہ مشن سے خود کو الگ کر لینے اور راست اقدام کے مطالبے کے بعد ملک بھر میں ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان تشدد بھڑک اٹھا۔
تشدد کی پہلی لہر کلکتہ میں 16 سے 18 اگست کے درمیان شروع ہوئی۔ ’گریٹ کلکتہ کلنگز‘ کے نام سے یاد کیے جانے والے اس واقعے میں تقریباً چار ہزار لوگ مارے گئے، ہزاروں زخمی اور تقریباً ایک لاکھ بےگھر ہوئے۔ تشدد کی یہ لہر مشرقی بنگال کے ضلع نواکھلی اور بہار تک پھیل گئی جس میں تقریباً سات ہزارمسلمان مارے گئے۔
انتیس جنوری کومسلم لیگ نے آئین ساز اسمبلی کی تحلیل کا مطالبہ كيا۔ فروری میں پنجاب میں فرقہ وارانہ تشدد شروع ہو گیا۔
برطانیہ کے وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلي نے اعلان کیا کہ برطانیہ جون 1948 تک بھارت چھوڑ دے گا اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے کا عہدہ سنبھالیں گے۔
تقریباً سوا کروڑ لوگ اپنا گھر بار چھوڑ ملک تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے۔ تقریباً دس لاکھ لوگ تشدد میں مارے گئے جن میں مسلمان، ہندو، سکھ سبھی شامل تھے۔
بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام


