بی جے پی کی اتحادی اور سب سے پرانی ساتھی سیاسی پارٹی شیو سینا کے سینئر رہنما سنجے راووت نے پارلیمانی جمہوریت کا احترام کرنے کے لئے ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور کانگریس کی تعریف کی ہے۔موجودہ سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کی عدم موجودگی کسی بھی حکومت کو منمانی کرنے والی حکومت بنا دیتا ہے ۔
سنجے نے کہا ’’جواہر لال نہرو اور کانگریس سے اختلاف ہو سکتے ہیں لیکن انہوں نے پارلیمانی جمہوریت کے وقار کو بنائے رکھا ۔ وہ کانگریس ہی تھی جو آزادی کے بعد پارلیمنت میں پارلیمانی جمہوریت کے وقار کے لئے کئی قانون لائی ‘‘۔ واضح رہے انہوں نے مزید کہا کہ ’’وہ جواہر لال ہی تھے جنہوں نے ملک میں حزب اختلاف کی اہمیت کو پہچانا تھا ۔ جب شروع میں حزب اختلاف کمزور تھا تو وہ کہتے تھے کہ انہیں وزیر اعظم کی ذمہ داری نبھانے کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی ذمہ داری بھی نبھانی ہوگی‘‘۔سنجے نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی بھی نہرو کے نقش قدم پر چلتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر حزب اختلاف نہیں ہے تو ملک کی جمہوریت کمزور ہو جاتی ہے اور سیاست یک طرفہ ہو جاتی ہے‘‘۔
شیو سینا کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ نے ان موقع پرست سیاست دانوں پر طنز کیا ہے جو آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی اور شیو سینا میں شامل ہونے کے لئے قطار میں کھڑے ہوئے ہیں ۔ اس میں تحریر ہے کہ مراٹھ واڑا میں پانی کی کمی آرٹیکل 370 کو ہٹائے جانے جیسا اہم ہے لیکن کوئی بھی اس مدے کا حوالہ دیتے ہوئے پارٹی نہیں چھوڑ رہا ہے ۔ سنجے نے کہا کہ بھلے ہی ہر جگہ سوکھا ہے لیکن بی جے پی اور شیو سینا میں دیگر سیاسی رہنماؤ ں کے شامل ہونے کا سیلاب آیا ہوا ہے ۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
