بھیونڈی (شارف انصاری ):- شہر کے نائیگاوں واقع انصاری فرید میموریل گرلز ہائی اسکول کے گیٹ کے پاس کلاس 9 ویں میں پڑھنے والی 14 سالہ طالبہ کو ہونڈا اسنٹ کار میں زبردستی بٹھا کر لاج پر لے جاکر اس کے ساتھ جسمانی زیادتی کرنے کا سنسنی خیز معاملہ روشنی میں آیا ہے ۔ لڑکی کی شکایت کے بعد فعال ہوئی شانتی نگر پولیس نے صدرودالدين انصاری 35 اور ندیم قمرالدين شیخ 35 کو گرفتار کر لیا ہے ۔
ملی معلومات کے مطابق متاثرہ لڑکی صبح رکشہ سے جیسے ہی اسکول آئی اسی وقت اسکول کے گیٹ پر کھڑے صدرودالدين نامی نوجوان نے اپنے ساتھی ندیم کی مدد سے کلاس 9 ویں میں پڑھنے والی نابالغ اسکولی طالبہ کو جبرا اپنی گاڑی میں بٹھا کر اس کی اسکول کی ڈریس کو کار میں ہی تبدیل کرا دی اور انجور پھاٹا واقع آشرودا لاج لے گیا ۔ اس کے بعد اس نے لڑکی کو ایک کھولی میں لے جاکر اس کے ساتھ شرمناک فحش حرکت کی ۔ ذرائع کے مطابق اسکول چھٹنے کا وقت گزرنے کے بعد لڑکی جب گھر نہیں آئی تو اس کے خاندان والوں نے اس کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی اسی درمیان دیر سے لڑکی گھر آئی ۔ اپنے والدین کی طرف سے گھر سے دیر میں آنے کا سبب پوچھے جانے پر گھبرائی ہوئی متاثرہ لڑکی نے اپنی ساری آپ بیتی اپنے ماں باپ کے سامنے بیان کی ۔ اس واردات سے خوفزدہ ہوکر لڑکی کے والدین لڑکی کو ساتھ لے جا کر شانتی نگر پولیس اسٹیشن میں مذکورہ دونوں ملزمین صدرودالدین اور اس کے ساتھی ندیم کے خلاف شانتی نگر پولیس میں معاملہ درج کرایا۔
معاملہ درج ہوتے ہی شانتی نگر پولیس اسٹیشن کی سینئر پولیس انسپکٹر ممتا ڈسوزا کی رہنمائی میں API درگیش دوبے نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے والے ندیم و صدرودالدين کی تفتیش کر تے یوئے دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا ۔ پولیس نے گرفتاری کے بعد ندیم اور صدرودالدين کو جمعہ کے دن عدالت میں حاضر کیا تھا جہاں عدالت نے 27 مارچ تک دونوں کو پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے ۔